Friday, 11 November 2016

تخت لاہور اور مزار لاہور کی جنگ               



  
٩نومبر،یوم اقبال بھی گزر چکا


،ظلم کے خلاف  بدترین جمہوریت نے  اپنی آمریت کا اعلان کردیا ہے،"ہاں میں آمر ہوں "کے الفاظ 

بے لحاظ بغاوت کو دعوت دے رہے ہیں۔ یہ بھی سمجھا دیا گیا کہ  یوم اقبال پر چھٹی  نہ کرنے کیا  کیافوائد ہیں؟ 

  ابھی چند دن پہلے ہی اس بدترین جمہوری آمریت نے ہمیں سمجھایا تھا  کہ وقت کا یزید کسی طرح سوچتا

ہے ،اور اس وقت  کا چوہدری نثاراوررانا ثنا اللہ کس  سوچ  کا غلام ہوگا ؟ یاد کریں ،یزیدی لشکر کس طرح 

ہر باغی کا سر کاٹتے کاٹتے وہ ...

اس سر کو بھی کاٹ دیتے ہیں ، جومعراج انسانیت کی تمام حدوں کو پار کرنے والا عرش بریں پر نعلین 

سمت آنے والے کی دوش پر  سوار اونچا بہت ہی  اونچا دیکھا  گیا تھا۔خانودہ رسول پر ایسا ستم ۔۔۔ اس دن 

کعبہ کی چار دیواروں،ایک چھت کی اور روضہ رسول  کے گنبد کی کیا حرمت رکھی گئی تھی؟ بس ایک بہت 

بڑی مثال سے ایک پست سوچ کا تسلسل سمجھ لیں کہ اقبال جوہمارا فخر ہے ،ہماری انا ہے ،عزت ہے 

،ہماری شان ہے ،اس اقبال کے گھروں[سیالکوٹ ۔لاہور] کو ہم نے قومی ورثہ قرار دے رکھا ہے ، عام 

لوگوں کےلیے یہ گھر کھول کر انکو پیغام  دیا ہے کہ ہم اپنے محسنوں کو بھولے نہیں ہیں،سرکاری مہمانوں 

کو اقبال کی میز ،کرسی صوفے ،کپڑے ،جوتے کس لیے دیکھائے جاتے ہیں؟



آج بھی آمرنہ سوچ  جو فرعونی ویزیدی تخت  پر برجمان ہے ،اس کے حکم پر مفکرپاکستان  ڈاکٹر محمد اقبال کے پوتے ولید 

اقبال کو  جب ٹُھڈے مارے گئے ،ان کاگریبان پکڑاگیا ،ان کو گھسیٹا گیا ،پولیس وین میں جانوروں کی طرح ڈالا گیا ۔۔۔ 

وقت کی گردش نےتمہیں ننگا کردیا۔یہ منظر دوسری قوموں نے کس طورسے دیکھا  ہوگا ابھی اس کا اندازہ  ہی نہیں کیا 

گیا۔یقیناً اس خیال سےالگ رہ کر ہی یزیدی قلمیں  اورزبانیں تاویلیں گھڑسکتی ہیں ۔تم ولید اقبال کی کردار کشی کر سکتے 

ہو ،اسے شر پسند کہہ سکتے ہو، اس کو لانے والوں اور اکسانے والوں پر الزام دھر سکتے ہو ، تم جو بھی کہو،جو بھی لکھو 

گے مگر یاد رکھو تمہاری ہر تاویل تاریخ  کے اوراق پر تمہاری پیدائش سےپہلے  سیاہ حرفوں سےرقم ہے،جو تمہاری بد نسبی 

کی تاریخ  عیاں کردے گی ۔


نہیں جانتا کہ دنیا کے ادب میں کتنی بار وجود کے لبادے سے نکل جانے والی روح کے بارے "تڑپ " جانے کا لفظ 

تڑپ کا جو بھی تصور رکھتے ہوں ، اقبال کی روح  تڑپ رہی ہے یا نہیں ،استعمال ہوا ہے ۔آپ روح کی 

اگر کوئی پاکستانی زندہ ہے اس سے  پوچھتا ہوں ...

جس کے اندر تک روح گھس کربیٹھی ہے  جب ولید اقبال کوتشدد کا نشانہ بنایا گیاتب اقبال کی روح تڑپی یا نہیں۔اس منظر کا 

تعلق اقبال کےکسی  شعر کے ساتھ نکلا ہےیا نہیں؟اقبال کے کپڑے ،موزے اورجوتےکا تعلق  اس بات سےنکلا یا نہیں ۔ 

اگر میرے لکھے کو مٹایا نہ گیا  تو جاکرمرقد اقبال پر  پڑھ لینا  کہ یہاں ہماراعظیم المرتبت مفکر و رہبر،پیشوا ابدی نیند سو رہا 

ہے اور بہت ہی سکون  سے سو رہا ہے  حالانکہ پورے فخر کے ساتھ سرکاری سطح  پر  لمبی تان کر سونے والے اس بچارے 

کے پوتے کی خوب درگت بنائی گئی ،اس کا حال کسی دوردراز گاوں کے  ماسٹر اقبال جیسا کیا گیاجو چوہدری سے اپنا حق 

مانگنے گیا تھا، ولید کے بالوں کو نوچا،سینے پر کہنیاں ،پیٹ پر مکے مارے گئے، اس کے گریبان کو پکڑا ، اس کی گردن 

،گھسیٹ کر  گرفتار کیا گیا تو  پھر .... ،اس کی آواز کو دبایاگیا، اس کی پیٹھ پر ٹُھڈے مارے گئے ،اس کو قید 

اچھا ہے اقبال کو سونے دو وگرنہ اس کی جنگ جمہوریت کی کھال میں چھپی خالص آمریت سے ہو جائے گی ، ایسے 

ظالموں ساتھ شروع ہوجائے گی جنھیں کسی بھی چیز کا لحاظ نہیں ،پھر  اپنی آمریت کے نشے میں جھومتے جھومتے  اگر ان 

فرعونوں نے اقبال کے مزارکو بھی ہارا دیا تب کون سی غیرت مندقوم اٹھ کر قصر جاتی عمرہ کے درودیور ہلا دے 

گی اگرولید  اقبال  جو اقبال کا خون ہے اس کی بے حرمتی ہو سکتی ہے تو پتھرکی  مرقد ،اور جاوید منزل میں رکھے اقبال کے 

سامان اورکپڑے ،جوتوں کا کیا حشر کر سکتے ہیں یہ لوگ؟

میں ہے ،اس کی درودیوار لب بستہ ہیں ، اقبال سو رہا ہے،فرق صرف یہی ہے کہ جاوید منزل کا سب سامان عالم حیرت 

ہے۔مزار اقبال کی زباں پر چپ کی مہر ہے جبکہ یہ ولید اقبال بولتا