کوئی خیال ، شعر یا جملہ کچھ دن سوچ اور زبان کے بیچ جھولا جھولتا رہتا ہے،اب جناب مرحوم مرزا غالب کا یہ شعرصاحب ہیں،زوروں سے چمٹے ہوئے ہیں۔اے بھائی صاحب ،جی ہاں آپ ،میں آپ سے مخاتب ہو٘ں شعر بھائی صاحب،کیوں پیچھے پڑے ہوجی مگر شعر صاحب بھلی سی صورت بنائے ،نیند سے جاگے کسی بچے کی طرح حیرانی سے تکنے لگا چنانجہ میں نے بھی سختی سے پیش آنے کا ارادہ ترک کردیا
لیں آپ بھی دیکھ لیں یہ ہیں وہ شعر صاحب
جلا ہے جسم جہاں دل بھی جل گیا ہوگا
کریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہے
شعر صاحب نے تو بتایا نہیں کہ اس "آج اور کل" میں یوں آنے کا مقصد کیا ہے ؟ اور دماغ شریف تو خیر اور ہی باتوں میں لگے ہوئے ہیں تو پھر سرسری طور پر سوچا کہ اس واردات کو کیا عنوان دیا جائے۔۔۔۔۔ پسند جی ہاں "پسند" ۔۔۔ اچھا تو مشکل سے آسانی کی خواہش نے یہ بہانہ کیا ہے ۔۔۔ہوں اور میں زیر لب بہت سنوار کر یوں گویا ہوا کہ آج کل یہ شعر مجھے پسند آیا ہوا ہے ویسے "یاد آیا ہوا ہے" کہتا تو بات کچھ سچی سچی سی لگتی۔۔۔یاد آیا ۔۔۔ہیں ، اس کا کہیں یادوں سے کوئی تعلق تو نہیں ؟
ایک سپاہی چور کے پیچھے بھاگا، ارے۔۔۔ نہیں، میں نے روکا کس لمبے بکھڑے میں پڑنے لگے ہو ۔۔۔ ہاں یا د آیا کہیں آرزو کے موضوع میں اس شعر کی آتما بھٹک تو نہیں رہی ؟ شاید آج بھی آرزو کے موضوع پر کافی دیر میں تنہا دور تک چلتا رہا تھا اور میں نے کچھ ؛لکھا بھی تھا ،کہاں گیا۔۔۔ یہاں۔۔۔ اس طرف،ادھر۔۔۔۔ ہاں یہ رہا ،میں نے لکھا تھا کہ
انسانی آرزوئیں انتہائی نازک ہوتی ہیں،ان کے پورے ہو نے کا ایک وقت ہوتا ہے، وقت گزر جانے کے بعد اکثر آرزویں حسرتوں میں تبدیل ہوکر ہمیشہ کے لیے دفن ہوجاتیں ہیں اور کچھ اپنی ہی آرزوں سے انسان اس قدردور ہونا چاہتا ہے کہ اس
کی پرچھائیوں سے بھی بھاگتا ہے
او ہو یہ بات بھی نہیں ہوگی آرزو بعد میں اور یہ جناب پہلے ٹپکے تھے ،ایک تو خود سے جواب نہیں ملتا ،گر ملے بھی تو فقظ اتنا ہی کہ پھر کبھی سہی پیارے ابھی کہیں اور ہوں۔۔۔۔اور دوسرا کوئی بتاتا بھی تو نہیں ،پوچھ بیٹھوں اپنا آپ سارا اس میں ڈال دے گا مگر اس بات کا جواب نہیں دے گا جو پوچھی ہو۔
ایم،یم،یم۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوئی اور شعر کیوں نا سوچا جائے شاید کہ بات بن جائے کوئی حوالے سے مفہوم ہی نکل
آئے۔ دیکھیے اب کون سے اشعارآئَے جاتے ہیں
میر ہم مل کے بہت خوش ہوئے تم سے پیارے
اس خرابے میں میری جان تم آباد رہو
،،،،،،،،،،،،،،،،،
تنگی دل کا گلہ کیا یہ وہ کافر دل ہے
کہ اگر تنگ نہ ہوتا ے تو پریشاں ہوتا
...............
میں تجھ کو پا کے تجھی کو صدائیں دیتا ہوں
تو میرے دل میں اتر کر بھی کیوں سفر میں رہا
...............
اک دیا جل رہا ھے شب_ تاریک میں
اندھیرا اس کی لو میں گم ھے
یوں طرح طرح کے اشعار اطرف نمودار ہونے لگے، کہیں ہنگامہ نہ ہوجائے ہم نے گھبرا کردفتر بند کردیا،ہمارے پاس وقت نہیں لگانے کو یا پھر یوں ہی کہیں کہ لہو نہیں جلانے کو وگر نہ یہ قصہ تو باہر نکال ہی لیتے اور یہ سب باقی اشعار بھی جو ساتھ نبھانے آنکلے ہیں ان کے بارے میں بھی بس اتنا ہی کہ یہ آجکل پسند آئے ہوئے ہیں۔








