شبلی فراز صاحب اور جنرل (ر) عاصم باجوہ کو نئی ذمہ داری پر خوش آمدید
لیکن
اگر #ظالم_اشرافیہ اور #کرپشن_مافیا کے خلاف کھل کر #بیانیہ نہ دیا،کرپٹ قومی مجرموں کے بارے اظہار نفرت نہ کیا،اگر ظالم اشرافیہ کے گٹھ جوڑ کو #ملی_یکجہتی قرار دیا،اگر ناپاک اتحاد اور ملکی دباو میں کنکشن کاٹنے کو ترجیع میں نہ رکھا ،اگر #میڈیا فرعون کو مثال عبرت نہیں بنایا،ملک و قوم کے خلاف مستقل مورچہ اسکا ادارہ بند نہ کیا اور قومی ایجنڈے کو ناقابل عمل ایجنڈہ سمجھا
تو پھر ناخوش آمدید
تو پھر آپکی طاقت ہماری طاقت نہِں ہمارے دشمن کی طاقت ہے۔تب آپکی آمد
اکثریت مظلوم طبقے پر ایک اور بوجھ کے سوا کچھ بھی نہیں، لاکھوں ستم میں
ایک اور ستم کے سوا کچھ بھی نہیں،ہمیشہ یاد رکھا جانا چاہیے نواز رہائی
بدترین حکمت عملی تھی۔آئندہ ایسی حکمت عملی کی توقع نہیں رکھتے
(جنرل عاصم اگراپنے فوجی بیک گراونڈ کی وجہ سے #سول_ملٹری_لڑائی کے تاثر سے بچنے کے لیے محتاط رہے تو پھر بڑی دقت ہوگی، #عمران کا کرپٹ اور ظالم اشرافیہ مخالف بیانیہ آنا چاہیے باقی #فوج کے موقف کے لیے #ISPR پوری طرح موجود ہے )
#حکومت برائے حکومت نہیں ، عہدہ برائے مرتبہ نہیں ، ظاقت برائے عیاشی نہیں ،اخیتار برائے ذاتی مفاد نہِں ،
#دو_نہیں_ایک_پاکستان کی توقع رکھتے ہیں اور یہی اچھی توقعات ہیں
#Pakistan
#Government
#Ministry Of #Information
#Media
میڈیا کی بڑی اہم ذمہ داری ہے،میرے نزدیک جس وقت جو کچھ لکھنا اور دیکھانا چاہیے اس سپیس (جگہ) اور وقت کو کسی کام میں لگانا یا غلط بیانی کئیے بغیر توجہ اصل معاملے کی بجائے کسی اور طرف لگانا بھی بہت بڑاجھوٹ ہوتا ہے اور جس قدر مقاصد گھناونا ہوگا اس قدر جھوٹ سنگین ہوگا۔اگر کسی کے جھوٹ کی وجہ سے قتل ہوگا تو وہ شریک قاتل ہے ،اگر کسی ناپاک حربے کی وجہ سے دہشتگردی ،کرپشن اور کسی بھی مجموعی قومی نقصان کو کسی جہت میں کوئی بھی گھناونا راستہ ملے گا تو جھوٹ ہوگا اور ناپاک مجرمانہ جھوٹ ہوگا ,
،کچھ سچ ایسے ہوتے ہیں جو فساد کے باعث ہوتے ہیں اور کچھ سچ،اصل سچ کی جگہ بول دیے جاتے ہیں اور کچھ سچ کمزوری کی حالت میں اس لیے سامنے لائے جاتے ہیں تاکہ ان کو مشق ستم بنایا جائے اسے گردن سے دبوچا جائے،کسی سج کو رسوا کرنا مقصود ہوتا ہے کسی سچ کو مذاق کا نشانہ بنانا ہوتا ہے ،کسی سچ کے ساتھ گھناونا شک گھولدیا جاتا ہے اور کسی سچ کے ہاتھ پاوں باندھ کر پٹڑی پر ڈال کرفرض نبھایا جاتا ہے ،جبکہ جھوٹ کو تمام تر مطلوب توانائی حاصل ہوتی ہے
یہ چمن اجڑا ہے اسے نوچا گیا ہے ،یہ اشرافیہ کی فیکڑی ہے ،دہائیوں سے اسے بس اس قدر سلامت رکھا گیا جس قدر یہ مٹھی بھر اشرافیہ کو منافع دے سکے ،یہ ہی الفت اور لگاو ہے باقی سب چھوٹ ہے
بے لگام ہوس اور سرمایہ دارانہ سوچ نے فریب ، جھوٹ اور سازش کا بے دریغ استعمال کیا اور ان کے نزدیک میڈیا ان کاموں کے لیے بہت موزوں تھا۔سرمایہ اور طاقت کے کھیل میں میڈیااہم جز ہے
اگر جانتے بوجھتے ایک وکیل ایک مجرم کو بے خطا ثابت کردیتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ میرا پیشہ ہے تو پیشہ نہیں جرم اور گناہ ہے ،دھوکہ دہی اور شیطانی حربوں پر غور کریں تو بعض اوقات اس طرح سچ بولے جاتے ہیں ان کو کمزور کیا جائے اور وہ کہیں جڑ نہ پکڑجائے ،بعض اوقات اس طرح سچ بولا جاتا ہے کہ تاکہ جھوٹوں کے انبار پر مہر تصدیق لگوائی جاسکے ،یہ میڈیا ہی ہے جو بڑے بڑے مجرموں کو جرم ثابت نہ ہونے تک باعزت قرار دیتا ہے ، مجرموں سے نفرت کو زائل کرتا ہے دباو و تناو پیدا کرتا ہے اور راہ ہموار کرتا ہے کہ مجرم کو باعزت بری کیا جائے ،یہ طاقت ور مجرموں کی انسانی مجبوریوں کا پرگداز نوحہ پڑھتا ہے تو ان مجبوروں کو بھی آنسو پوچھنے پر مجبور کردیتا ہےجن کے ہاتھ ابھی اپنے رستے ہوئے زخموں پر تھے،وہ ناگزیر قومی فیصلوں کو ناقابل عمل بنا کر پیش کرتا ہے ،اشرافیہ کے ظلم کے راستوں پر صبح شام جھاڑو مارا گیا،انکے کردار کو جانتے بوجھتے ان کو مزید اختیار دلانے کو انصاف کہا گیا،انصاف کی نحیف کوشش کے سامنے حمام میں سب ننگے کا شور اٹھا دیا۔
انقلاب کو منفی اور چور اتحاد کو مستقبل کا راستہ کہا
کرپشن ہوتی رہتی ہے مگر آپ آگے بڑھیں کا تصور دیا،
. پیالی کے طوفان کو ملک کا طوفان کہا
بڑی منڈیوں کے پالتو ،چھوٹی منڈیوں کاٹ کھانے والوں اور نچلے طبقے کا خون چوسنے والوں کو مجبور کہا
نظام عدل اور طبقاتی جنگ کی جگہ پنجاب ،سندھ کے حقوق اور سول ملٹری کی بالادستی کا ہلڑ مچایا
،جعلی لیڈرشپ چمکائی، مسائل کی وجوہات کو مسائل کاحل کہا ،
عالمی بلیک مارکیٹ کی طرز پر بین القوامی انڈر گراونڈ بیس وجود میں آتی ہے جن کے نتیجے میں چلنے والے نیٹ ورکس کو خفیہ ایجنسیاں نہیں کہا گیا،
آزادی صحافت ہی کہا گیا،
آزادی صحافت کے نام پر غیر ملکی دباو ڈلوایا گیا اور اسے صحافت کا سفر تعبیر کیا گیا،
کالےدھندے ،مکروہ کاروبار اور تشہیری مہم کو صحافت ہی کہا گیا
یہ سب بھیانک سچ ہیں جوان مقاصد کو اور خصائل کو نگل گیا جو کتابوں میں لکھے ہیں
یا چند دائرے سے نکلے ہوئے انسانوں کے ذہنوں میں اٹکے ہیں ،یقینا صحافت دودھ اور شہد کی طرح تھی مگراس میں زہریلے کیمیکل ملا کر کثیر کیا گیا اب کثیرجہتی اور وسیع کردار رکھتی ہے اور مجوعی طور پر اکثریت پسے ہوئے طبقے کے برخلاف ظالموں کی طاقت بنی ہوئی ہے۔وسائل کو قبضے میں رکھنے کی شیطانی سوچ کا سب سے بڑا ہتھیار سازش ہے بڑے پیمانے پرعوام الناس کو بیوقوف بنانا،ان کے لیے سب بڑا ذریعہ ہے ،اگر نہیں سمجھے تو یوں سمجھیں کہ ترقی پزیر(1)ممالک میں اس استحصالی سوچ کا پیٹ بینکنگ سسٹم کو مانا جائے تو اس کے ہاتھ میڈیا ہے جس کے ذریعے لقمہ منہ تک پہنچ پاتا ہے ،تشہیر اور طے شدہ خبروں کے ذریعے اہداف حاصل کیے جاتے ہیں،معاف کیجیے گا بیوقوف بننے کے اس عمل کا حصہ خود بڑی اکثریت میڈیا ورکرز کی بھی ہے،
باقی ہمارے ملک میں میڈیا سے ملک و قوم نے کیا کھویا کیا پایا تو بہت زیادہ کھویا ،زہریلے کیمیکل کی آمیزش نے سارا دودھ زہر بنادیا، اور میڈیا کے قومی ثمرات کا حساب یہ ہے کہ آپ کو اعلانیہ دس دیے جائیں گے مگر چپکے سے آپکا سو یا ہزار کا نقصان ہوجائے گا۔استحصالی نظام قاتل دھوکے کی فیکڑی اور اکثریت کارکنوں سے بالاتر اکثریت میڈیا اپنے خاص پیٹھوں سمیت بڑے بھاری جھوٹوں کی مشینیں ہیں
(1) انشااللہ کسی وقت ترقی پزیر پر بات کروں گا اور دوسرا یہ موضوع کہ ترقی یافتہ ممالک میں میڈیا کا کردار مختلف ہے
(2)
ایک گرفتار میڈیا ڈان کا دباو اور حکومت ، میرا اگلا موضوع ہوگا،ایک طرح سے آج کے موضوع کا تسلسل
ہوگا