Thursday, 22 December 2022

بطور پاکستانی ، تحریک حقیقی آزادی میں شمولیت

 جس وقت آپریشن رجیم چینج شروع ہوا تو میں نے فوری فیصلہ کرلیا تھا میں کے خلاف احتجاج کروں گا ، تقریباً دو سالوں سے  جہاں تک بھی میری بات پہنچ سکتی تھی میں جنرل ر باجوہ کے انتہائی مشکوک اور منفی کردار پر بات کررہا ، باجوہ کی مدت ملازمت کی توسیع پر بھی مسلسل تنقید کرتا رہا ، اس کی ملازمت کی توسیع پر تمام جماعتوں کی حیرت انگیز یکجہتی بذات خود    
ایک خطرے کا الارم تھا ، مجھ آنے والے دنوں کے احساس نے
 بیقرار کردیا تھا ، جب نواز شریف کو لندن روانہ کیا ایسے میں جب مجھ سمیت عام لوگ سر پیٹ رہے تھے مجرم کو کسی صورت بھی چھوڑا تو دوطبقاتی نظام کے مخالف کوششوں اور انصاف کی جدو جہد کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا مگر ہم سب کی آنکھوں کے سامنے بدترین تاریخی طبقاتی کھلواڑ ہوگیا ، تب مجھے
پی ٹی آئی حکومت کی کمزوری پر بہت زیادہ افسوس ہوا ، اس کا اظہار میں نے اپنی کتاب " دونہیں ایک پاکستان " میں کیا پرزور مذمت اور احتجاج کے ساتھ کیا ہے ۔ باجوہ سے جان چھڑانے کے علاؤہ أگےبڑھنے کا کوئی راستہ نہیں تھا تھا ، آپریشن رجیم چینج سے تقریباً ڈیڑھ سال پہلے میں مسلسل پیغام پہچانے کی مسلسل کوشش کرتا رہا کہ عمران خان صاحب اپنا آئینی اختیار استعمال کرکے اس کو فارغ کریں۔اس لیے جب حکومت کو  تبدیل کیا جارہا تھا تو مجھے باجوہ کے انتہائی منفی کردار میں ایک فیصد شک ۔ نہیں تھا ، میں اس وقت لاہور تھا ، 3 اپریل کو میں پنجاب اسمبلی میں بدمعاشی کے خلاف احتجاج کے لیے پہنچا دوسرا پہلو یہ تھا کہ صحافتی نقطہ نظر سے بھی حالات کا جائزہ لوں ، یہ پہلو آئندہ تمام احتجاج میں بھی ساتھ ساتھ رہا ، اس کے دو دن بعد میں نے سوشل میڈیا پر احتجاجی ویڈیو ریکارڈ کروائی اور یہ موقف اختیار کیا کہ امریکہ کو دھمکی دینے آمادہ بھی پاکستان کے اندر  ، ، کے افراد نے ہی کیا ہے دس اپریل سے میں نے لبرٹی چوک لاہور سے پی ٹی آئی کے احتجاجوں میں انفرادی طور پر حصہ لینا شروع کردیا ، دونوں لانگ مارچ میں حصہ لیا ، پہلے لانگ مارچ کے لیے میں کئی دن پہلے گیارہ مئی کو ہی اسلام آباد چلا گیا اور ایک مرہ  کرایہ پر لے کر لانگ مارچ تک ونہی رہا
( مزید لکھوں گا)
لاہور ، رحیم یارخان، اسلام آباد اور راولپنڈی کے احتجاجوں، ریلیوں ،مارچز میں شمولیت کی میری چند تصاویر   





















































ط






 

Wednesday, 18 May 2022

منحرف ارکان کے فیصلے پر عمران خان کا شکریہ


 منحرف ارکان اسمبلی کے متعلق سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ
عمران_خان کا عدالت کو شکریہ؟؟#
قاسم سوری کے فیصلے کا کیا بنا؟
#AliMasoodSyed تحریر 

وزیراعظم پاکستان عمران خان نے اتارے جانے سے پہلے جو امریکی دھمکی کا خط   جلسہ عام میں دیکھایا اور واضح پر بتایا کہ 
ان کے ساتھ اصل میں کیا ہورہا ہے جو کہ تمام اخبارات اور ٹی وی چینلوں میں نشر ہوا جس پر فوری طور پر اسلام آباد عدالت سے رازداری ایکٹ کے تحت افشاں نہ کرنے کا حکم صادر بھی ہوا لیکن اس کے نتیجے میں ایک بڑے اور سنگین نتائج کے معاملات کو از خود نوٹس کے قابل نہ سمجھا گیا ایسی صورت میں جب کہ ابھی عمران خان چیف ایگزیکٹو کی کرسی پر موجود تھے اور اپنی حکومت کے خلاف امریکی مداخلت  کے بارے میں چیخ چیخ کر بتارہے تھے تو اس دوران  اس سلسلے کا سب سے بڑا فورم نیشنل سکیورٹی کونسل اس کو امریکی مداخلت کہہ رہا ہے تو کیا یہ معاملہ پھر بھی محض سیاسی رہا جاتا تھا؟ یہی نہیں جب ارکان اسمبلی کی منڈی لگی رہی اور رجیم تبدیل کی جا رہی تھی اور۔۔۔ اور۔۔۔ اور صرف یہ بھی نہیں جب ڈپٹی اسپیکر نیشنل اسمبلی قاسم سوری نے مداخلت کے خلاف فیصلہ دیا اور سپریم کورٹ کو خط بھیجنے کی بات کی تو تب بھی از خود نوٹس نہیں لیا ،جبکہ قاسم سوری کے فیصلے کے نتیجے میں وزیراعظم عمران خان نے اسمبلی توڑ دی تو اس کے اوپر نوٹس لے لیا گیا اور اسپیکر، وزیراعظم اور صدر کے اختیارات کو ایک طرح سے سلب کرتے ہوئے ،اس روز کی تاریخ میں عدم اعتماد کی کارروائی کو مکمل کرنے کا حکم صادر ہوا ، اس سب معاملات جن کا تعلق ملک میں رجیم کی تبدیلی، غیر ملکی مداخلت اور اسکے نتیجے ایک بڑے سیاسی و معاشی بحران کی صورت اختیار کرنے والا تھا کس طرح یہ چناؤ کیا گیا کہ کون سے نوٹس لینے ہیں اور کون سے نہیں اس کا کیا معیار تھا،عوام اختیار جانتے ہیں صرف چناؤ کا معیار جاننا چاہتے ہیں 
اس کا تجزیہ انصاف تقاضوں ، انصاف کییا پھر ملک بھر میں مجموعی صورتحال اور اس وقت کے غیر معمولی حالات کیا تھے، جیسے عوامل پر غور کرنے سے نکالا جاسکتا ہے۔ 
منحرف ارکان اسمبلی کے بارے میں 
سپریم کورٹ کے فیصلے پر میری رائے یہ ہے کہ پہلی بات، یہ فیصلہ بہت تاخیر سے آیا اس پر شروع میں ہی از خود نوٹس لیا جانا چاہیے تھا اگر ایسا ہوتا تو آج ملک کے حالات مختلف ہوتے ، اور اس سے بڑھ کر سب معاملات کی ماں معاملہ امریکی مداخلت ہے اس معاملے کے سامنے آتے ہی ایک آزاد ملک کی عدلیہ کو یہ معاملہ فوری طور اٹھانا چاہیے تھا ورنہ آزادی اور غلامی کا سوال اپنی جگہ کھڑا ہے ، جس ملک میں غیرملکی اقا،حکومت بدلنے اور تبدیل کروانے کا اختیار رکھتے ہوں وہاں آئین و قانون کی بالادستی کہاں کھڑی رہ جاتی ہے ، اس لیے نمبر ون مقدمہ تو امریکی مداخلت کا تھا، عمران خان حقیقی آزادی کی تحریک لے کر اٹھے ہیں ،کوہاٹ جلسے میں منحرف ارکان پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر "شکریہ" کو تمام اور مکمل انصاف سے مشروط کرنا چاہیے تھا، تحریک آزادی دوم یعنی حقیقی آزادی کا ایک اہم مطالبہ مکمل انصاف ہے اس شکریہ سے آزادی کی جدوجہد کرنے والوں  کے ذہنوں میں ایک الجھن ضرور پیدا ہوگی، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس فیصلے اور اس جیسے چند فیصلوں سے یا وقت گزرنے کے بعد دیئے گئے فیصلوں پر شکریہ کہنے سے  مجموعی طور  بے انصافی کے خلاف تحریک پر کوئی فرق تو نہیں پڑے گا؟ 
آخر میں ایک تصویر جو میں نے اس مضمون کے ساتھ شئیر کی، اس بارے میں بتانا چاہتا ہوں کہ یہ تصویر ضلع رحیم یار خان، تحصیل صادق آباد کے موضع رانجھے خاں کے دو بھائیوں غلام قادر اور غلام سرور کی ہے جنہیں 13 اکتوبر 2015 میں بہاولپور جیل میں پھانسی دے دی گئی تھی جبکہ سابق چیف جسٹس آصف کھوسہ نے 5 اکتوبر 2016 میں از خود نوٹس لیا اور 6 اکتوبر 2016 میں ان غریبوں کو بے گناہ قرار دے دیا جبکہ ان کو سپرد خاک کیے ہوئے تقریباً ایک سال کا عرصہ گزر چکا تھا

‏‎#حقیقی_آزادی ‎#امپورٹڈ_حکومت_نامنظور ‎#غلامی_نامنظور  ‎#حل_صرف_انقلاب 
‎#MarchAgainstImportedGovt ‎#Pakistan ‎#ImranKhan ‎#pti
 

Saturday, 16 April 2022

عمران خان اب واپس نہیں آئے گا

 


عنوان: عمران خان اب واپس نہیں آئے گا


تحریر : علی مسعود سید


امریکہ نے عمران خان کو اس لیے وزیراعظم کی کرسی سے نہیں اتارا کہ اسے دوبارہ اقتدارِ حاصل کرنے دے۔ 

تاریخ گواہ ہے کہ  امریکہ نے دنیا بھر میں دوسرے ممالک کی بہت سی حکومتیں تبدیل کروائیں ،ایسی بے شمار مثالیں ہیں کہ امریکی سازشیوں پر یقین نہ کرنے کی کوئی گنجائش نہیں

کتنے واقعات ہیں جس میں بہت سے باغی حکمرانوں کو جان سے ہاتھ دھونے پڑے  اور بہت سے دوسرے شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے باغیوں اور انقلابیوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا ، آج بھی دنیا بھر میں حکمران سمیت  سینکڑوں رہنما ان کی ریڈ لسٹ میں شامل رہتے ہیں،دوسرے ممالک میں مجرمانہ مداخلت اور اپنے مفادات کا سفاکانہ تحفظ کرنے میں امریکہ کے وسیع تجربات ہیں ، امریکی سازشوں پر گہری نظر رکھنے والے جانتے ہیں جو بھی حکمران یا بااثر شخص ان کے لیے رکاوٹ بنتا ہے یا بن سکتا ہے اسے اپنے اختیار سے ہٹادیا جاتا ہے اور اگر ایسا کرنا سود مند ثابت نہ ہو رہا ہو تو اسے مروا دیا جاتا ہے یہی نہیں بلکہ بہت سے باغیوں کو تو واضح طور پر دھمکا کر مثال عبرت بنایا جاتا رہا، ایسا کرنے میں ہمیشہ انہوں نے غداروں کو ساتھ ملایا ،دنیا بھر میں ان کی مداخلت کی داستان بہت زیادہ طویل ہے۔

پاکستان میں امریکیوں  کی مداخلت کی تاریخ پر بطور حوالہ کچھ مختصراً لکھ رہا ہوں ,امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور برطانوی پبلک ریکارڈ آفس  کے خفیہ دستاویزات جو شائع ہوچکے ہیں (1951 سے 1973 تک) 

لیاقت علی خاں قتل سازش

30 اکتوبر 1951 کو نئی دہلی میں موجود امریکن ایمبیسی سے  ایک خفیہ ٹیلی گراف امریکی حکومت کو ارسال ہوتا ہے جس میں وہ آگاہ کرتے ہیں کہ بھوپال کے ایک معمولی سے اخبار میں (ایک غیر معمولی) خبر ہے، جس میں انکشاف ہے کہ امریکی ایران سے تیل کے چشمے حاصل کرنے کے لیے شہید وزیراعظم لیاقت علی خاں سے اثرورسوخ استعمال کرنے کے خواہشمند تھے لیاقت علی خاں نے انکار کردیا ،امریکہ نے کشمیر پر خفیہ معاہدہ ختم کرنے کی دھمکی دی تو وزیر اعظم نے کہا کہ پہلے آدھا کشمیر اکیلے حاصل کیا باقی بھی خود حاصل کرلیں گے، بات بڑھ گئی تو وزیر اعظم نے امریکہ سے پاکستانی ہوائی اڈے خالی کرنے کا مطالبہ کردیا یہ مطالبہ ان پر بم بن کر، گرا اور انہوں نے پاکستان کے وزیر اعظم کو قتل کروانے کا حکم دے دیا اور شرط رکھی کہ قاتل مسلمان ہونا چاہیے تاکہ عالمی سطح کی پیچیدگیاں پیدا نہ ہوں ، پاکستان سے مناسب قاتل نہ ملنے کی وجہ سے یوں قاتل کی فراہمی امریکن ایمبیسی کابل  کے ذمے ہوئی جنھوں نے افغان لیڈروں کو پختونستان بنانے کا لالچ دیا اور ان سے مطلوبہ قاتل حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ، جس کا نام سید اکبر ولد ببرک خاں ہے  دوسری طرف لیاقت علی کا امریکہ سے اختلاف "گراہم " کی رپورٹ سے ظاہر ہوچکا ہے اور تیسرا یہ کہ شہید وزیراعظم کے جسم سے جو گولی ملی ہے وہ امریکی ساخت کی ہے جسے صرف امریکی آفسر استعمال کرتے ہیں اور یہ مارکیٹ سے دستیاب نہیں ،ارٹیکل میں امریکہ کی مشرق وسطیٰ میں ایسے ہی جرائم کا حوالہ بھی دیا گیا۔ 

جواب میں سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے یکم نومبر 1951 کو ہدایات دیں کہ  اس آرٹیکل کی زیادہ تشہیر نہیں ہونی چاہیئے ،عوام میں کم سے کم پھیلے ، اس سے پہلے امریکن ایمبیسی کراچی نے ایک خفیہ مراسلہ 19 اکتوبر 1951 کو روانہ کیا اور بتایا کہ کابینہ اجلاس سے پہلے سکندر مرزا نے ایمبیسڈر سے ملاقات کی اور لیاقت علی کیس میں افغان تعلق کی خبروں سے آگاہ کیا ،تو ایمبیسڈر نے سکندر مرزا کو کہا کہ مزید پبلسٹی نہ ہو وگرنہ عوام پر مضر اثرات مرتب ہوں گے ، سکندر مرزا نے اتفاق کیا 

امریکن ایمبیسوں کے خفیہ مراسلوں میں جو کہ آج ریکارڈ کا حصہ ہے تقریباً چار سال تک اس کیس کی بہت ہی محتاط پیروی نظر آتی ہے اور بہت سا مواد شائع نہ ہونے کے شواہد بھی ملتے ہیں پھر بھی قاتل اپنے نشانات چھوڑ گیا یا پھر تیس سالوں بعد شاید جان بوجھ کر ایسا کیا گیا تاکہ عبرت نشان ہو ۔

صاحبان اختیار کی امریکہ کے ساتھ مل کر سازشیں

 4 اکتوبر 1954 کو آمریکن ایمبیسی لندن کے خفیہ ٹیلی گراف سے معلوم ہوتا ہے کہ ملکی مفاد کے خلاف سکندر مرزا، امریکہ کو مشورہ دیتا ہے کہ امریکی معاشی و فوجی امداد کو سخت کرے اور دباؤ سے وزیر اعظم محمد علی کی حکومت کو ٹھیک راستے پر لایا جائے، ان خفیہ مراسلوں سے یوں لگتا ہے کہ سکندر مرزا انہیں صدق دل سے آقا تسلیم کرتا تھا

اس دوران اور بعد کے خفیہ ٹیلی گراموں میں ایوب خان مارشل لاء سے پہلے امریکیوں سے مشورے اور انہیں اپنے اعتماد میں لیتے ہوئے نظر آتے ہیں ،امریکیوں کو کہتے ہیں کہ وہ حکومتی عہدیداروں کی نان سینس برداشت نہیں کریں گے ، پھر ایوب خان (جو صدر بن چکے تھے) کے قتل کے ایک منصوبے کا ذکر بھی ہے ،ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان نذر الحسن قریشی جسے حکومت پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گرفتار کر لیا تھا یہ نوجوان جس امریکی اہلکار رابرٹ کینٹ کے رابطے میں تھا 19 مئی 1967 کے خفیہ پیغام میں اسے ممکہ گرفتار ی سے بچانے کے لئے فوری واپسی کے بندوبست کرنے کا کہا جارہا ہے تاہم نذر الحسن کے بارے میں انہوں نے یہ بتایا کہ وہ خود ایوب خاں کے قتل کا خواہش مند تھا مگر ان کا اہلکار رابرٹ کینٹ کیا منصوبہ بنارہا تھا یہ چھپایا گیا ، یوں یہ ایک ناکام قاتلانہ سازش تھی جس کا راز پاکستانی حکومت پر فاش ہوچکا تھا لیکن اس سب باوجود ملک امریکی چنگل سے نکل نہیں سکا.اس دوران ایوب خان کی بیٹی مسلسل امریکی ایمبیسی سے رابطے میں رہتیں اور تمام حکومتی معاملات پر آگاہ کرتیں، ان دستاویزات میں 1973 تک حالات ہیں جب بھٹو صاحب اقتدار میں آچکے تھے

بھٹو کی پھانسی اور جنرل ضیا کے قتل کی سازش

 اس کے بعد کے حالات ہماری تاریخ میں زیادہ نمایاں طور پر ملتے ہیں جب بھٹو صاحب نے ایک آزاد و خود مختار ریاست کی طرف قدم بڑھایا اور ایک عالمی لیڈر بن کر سامنے آئے ، اسلامی بلاک بنانے کی کوشش اور دیگر بہت سے اقدامات کیے جس کی وجہ سے امریکہ سے ان کے تعلقات میں شدید تلخی آگئی یہ اختلافات کسی پر ڈھکے چھپے نہیں ، ہنری کسنجر کی طرف سے انہیں مثال عبرت بنانے کی دھمکی دی گئی اگرچہ بعد میں کسنجر نے اس کی تردید بھی کی مگر تاریخ اسے نہیں مانتی ،کسنجر اور دیگر امریکی، بھٹو سے شدید اختلافات سے انکاری بھی نہیں۔ امریکہ کو باغیوں کو سبق سیکھا نے کا وسیع تجربہ ہے ، انہی حالات کا حوالہ دیتے ہوئےچند دن پہلے 27 مارچ کے جلسے میں وزیر اعظم عمران خان نے امریکی دھمکی آمیز مراسلے کا انکشاف کیا ،جس میں واضح کہا گیا تھا کہ وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہونی چاہیے وگرنہ بد ترین نتائج بھگتنے ہوں گے نتیجتاً عمران حکومت گرگئی اور اس سلسلے میں عمران خان صاحب نے جو بھی رکاوٹ ڈالنی چاہی تو ہر رکاوٹ کو بہت ڈرامائی اور حیرت انگیز طور پر دور کردیا گیا ، تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ بھٹو کے خلاف بھی تمام جماعتوں کا غیر فطری اتحاد بنتا ہے جس میں سخت مخالفین ،لبرل اور ملا سب اکٹھے ہوگئے تھے ، اور آسانی سے قابو نہ آنے والے بھٹو کو اس وقت کے آرمی چیف ضیا الحق نے پہلے نظر بند کیا اور پھر جیل میں ڈال دیا ، جنرل ضیا الحق مارشل لاء لگاچکا تھے اور اسی دوران جوڈیشل ہہ قتل کے نتیجے میں بھٹو کی زندگی کا خاتمہ ہوگیا ، جنرل ضیا الحق نے روس کے خلاف افغانستان جنگ میں خوب حصہ لیا اور ایک دن جب امریکہ کو خبر ملتی ہے کہ امریکی نایاب ٹیکنالوجی کا سٹینگر مزائل ایران کے پاس پہنچ گیا چکا ہے جو انہوں نے پاکستانیوں کو دیے تھے تحقیات شروع ہوئیں اور اس کے بعد اجڑی کیمپ کا سانحہ رو نما ہوتا ہے میزائلوں کے وسیع گودم میں موجود امریکی اسلحہ جل کر ضائع ہوجاتا ہے ،ان واقعات کے بعد جنرل ضیا الحق کو اچھی طرح معلوم تھا کہ انہیں اب کس سے جان کا خطرہ ہے اور وہ بہت زیادہ محتاط بھی تھے  اسی احتیاط کی وجہ سے امریکی سفیر اور پاکستان کے دوسرے بہت سے جنرلز ان کے ساتھ  جاں بحق ہوئے ،17 اگست 1988 کو بہاولپور کے قریب ان کا طیارہ تباہ کردیا گیا ،جنرل مشرف کو انتہائی توہین آمیز لہجے میں پتھر کا زمانہ یاد کروایا۔

عمران کی حکومت کے خلاف سازش(مداخلت)

اور آج غلیظ زبان میں وزیراعظم عمران خان کو دھمکی دی گئی

مار دھاڑ کے علاوہ ، معاشی گھیراؤ ، سلامتی پر دباؤ ، پیسے سے ضمیر خریدنا ، کسی عہدے کے لیے استعمال کرنا ، بلیک میلنگ اور سزا کا خوف جیسے تمام ہتھکنڈے استعمال کرکے یہ اپنی حاکمیت قائم رکھتے ہیں

پاکستانی تاریخ میں اگر مماثلت تلاش کی جائے تو عمران خان کا قصور بھٹو کے قصور سے ملتا ہے جس کا ذکر خود عمران خان صاحب نے بھی کیا لیکن ساتھ یہ بھی کہا کہ اب بھٹو والا دور نہیں رہا ، مگر یاد رکھیں عمران خان کی جان کو بدستور خطرہ لاحق ہے اور امریکہ کسی صورت میں عمران کو دوبارہ وآپس نہیں آنے دے گا خواہ الیکشن میں چلے جائیں ،امریکہ نے اتنی بڑی سازش کرکے کامیابی سے عمران خان کو اقتدار سے الگ کیا ہے ،کیا وہ آرام سے اپنے مقاصد ختم ہونے دے گا ۔اب تک تو یہ بیان کیا گیا کہ امریکہ پاکستان میں کیا کرتا رہا ہے اور  آگے کیا کرنا چاہتا ہے، ایسا تو ہم ہمیشہ سوچتے آئے ہیں لرزتے رہے ہیں کبھی ڈبل گیم سے وقت پاس کرتے رہے ہیں اور اس کے ٹرپل نقصان اٹھاتے آئے ہیں، مگر اس سے نکلنا کیسے ہے پاکستان کی تاریخ میں اس کا حل نہیں ملتا ، امریکہ عمران کو واپس نہیں آئے دے گا اور مخالف اتحاد بھی ، عمران بھی ایسے نہ سوچیں  یاد رکھیں نفسیاتی غلامی ظاہر غلامی سے بدتر ہے ، امریکہ خدا نہیں عوام اب اپنی آزادی و خود مختاری پر خود پہرہ دیں گے ،  عمران خان کو موقع ملا ہے کہ وہ سنہرے  اصولوں کو مرتب کریں ، اور دس سے بارہ نوجوانوں کے گروپ کو نظریاتی وارث قرار دیں ،ان کے ہاتھ مضبوط کریں ،کالی بھیڑیوں کو طریقے سے نکالیں ،پرانا نظام گل سڑ چکا ہے جہاں سے اٹھائیں گے بدبو کے سواہ کچھ نہیں ملے گا ،نظام ظلم روا ہے ، انصاف کی حالت ابتر ہے،بے حمیتی خطرناک حد تک پھیل چکی ہے،ریاست کا کربشن مخالف کوئی ایجنڈہ نہیں، آزادی خود مختاری اور عزت کے بغیر کوئی قوم اپنی حالت بدل نہیں سکتی اور بغیر انقلاب کے سامراج سے آج تک کسی نے آزادی حاصل نہیں کی،میں نے مقدمہ پیش کیا کہ لیاقت علی خان کی شہادت سے لے کر آج تک ہم ایک قاتل غنڈے اور شدید منفی ایجنڈہ رکھنے والے زمینی خدا کی غلامی میں ہیں یقیناً یہ تو بہت ہی بد ترین غلامی ہے ، اس نظام کا حصہ بن کر عمران خان نے دیکھ لیا ہے ، امریکہ الیکشن بھی نہیں جیتنے دے گا اور اگر قوت ایمانی اور عوام کے بل بوتے پر فتح حاصل کرنی ہے تو پھر نیا نظام انصاف اور حقیقی آزادی کیوں نہیں؟؟؟ ایک عظیم لیڈر آزمائے ہوئے بیمار و غلام نظام کی طرف واپس نہیں آتا بلکہ حقیقی منزل کی طرف بڑھتا رہتا ہے جسے بہت سے کم ہمت لوگ قابل عمل نہیں سمجھتے۔