Thursday, 22 December 2022

بطور پاکستانی ، تحریک حقیقی آزادی میں شمولیت

 جس وقت آپریشن رجیم چینج شروع ہوا تو میں نے فوری فیصلہ کرلیا تھا میں کے خلاف احتجاج کروں گا ، تقریباً دو سالوں سے  جہاں تک بھی میری بات پہنچ سکتی تھی میں جنرل ر باجوہ کے انتہائی مشکوک اور منفی کردار پر بات کررہا ، باجوہ کی مدت ملازمت کی توسیع پر بھی مسلسل تنقید کرتا رہا ، اس کی ملازمت کی توسیع پر تمام جماعتوں کی حیرت انگیز یکجہتی بذات خود    
ایک خطرے کا الارم تھا ، مجھ آنے والے دنوں کے احساس نے
 بیقرار کردیا تھا ، جب نواز شریف کو لندن روانہ کیا ایسے میں جب مجھ سمیت عام لوگ سر پیٹ رہے تھے مجرم کو کسی صورت بھی چھوڑا تو دوطبقاتی نظام کے مخالف کوششوں اور انصاف کی جدو جہد کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا مگر ہم سب کی آنکھوں کے سامنے بدترین تاریخی طبقاتی کھلواڑ ہوگیا ، تب مجھے
پی ٹی آئی حکومت کی کمزوری پر بہت زیادہ افسوس ہوا ، اس کا اظہار میں نے اپنی کتاب " دونہیں ایک پاکستان " میں کیا پرزور مذمت اور احتجاج کے ساتھ کیا ہے ۔ باجوہ سے جان چھڑانے کے علاؤہ أگےبڑھنے کا کوئی راستہ نہیں تھا تھا ، آپریشن رجیم چینج سے تقریباً ڈیڑھ سال پہلے میں مسلسل پیغام پہچانے کی مسلسل کوشش کرتا رہا کہ عمران خان صاحب اپنا آئینی اختیار استعمال کرکے اس کو فارغ کریں۔اس لیے جب حکومت کو  تبدیل کیا جارہا تھا تو مجھے باجوہ کے انتہائی منفی کردار میں ایک فیصد شک ۔ نہیں تھا ، میں اس وقت لاہور تھا ، 3 اپریل کو میں پنجاب اسمبلی میں بدمعاشی کے خلاف احتجاج کے لیے پہنچا دوسرا پہلو یہ تھا کہ صحافتی نقطہ نظر سے بھی حالات کا جائزہ لوں ، یہ پہلو آئندہ تمام احتجاج میں بھی ساتھ ساتھ رہا ، اس کے دو دن بعد میں نے سوشل میڈیا پر احتجاجی ویڈیو ریکارڈ کروائی اور یہ موقف اختیار کیا کہ امریکہ کو دھمکی دینے آمادہ بھی پاکستان کے اندر  ، ، کے افراد نے ہی کیا ہے دس اپریل سے میں نے لبرٹی چوک لاہور سے پی ٹی آئی کے احتجاجوں میں انفرادی طور پر حصہ لینا شروع کردیا ، دونوں لانگ مارچ میں حصہ لیا ، پہلے لانگ مارچ کے لیے میں کئی دن پہلے گیارہ مئی کو ہی اسلام آباد چلا گیا اور ایک مرہ  کرایہ پر لے کر لانگ مارچ تک ونہی رہا
( مزید لکھوں گا)
لاہور ، رحیم یارخان، اسلام آباد اور راولپنڈی کے احتجاجوں، ریلیوں ،مارچز میں شمولیت کی میری چند تصاویر   





















































ط