Saturday, 9 May 2020

لشکر متاثرین کیوں نہیں؟


اس دور کے ننگ مسلمان فرقہ وارنہ اختلاف کے شعلے تو بھڑکاتے ہیں،ایک دوسرے کو مارنے کے لیے مسلحہ گروپ بناتے ہیں ،ان کے لشکر و سپاہ دوسرے فرقے کے افراد کو بلاامتیاز رنگ و نسل بلحاط امیر غریب مارتے ہیں
مگر(سوائے زبانی جمع خرچ کے) کسی کی غیرت کو طبقاتی تقسیم نے نہیں چھیڑا،جب ظالم اشرافیہ اکثریت طبقے کا خون چوس رہے ہوتے ہیں تو نے ان کی غیرت بھنگ پی لیتی ہے،کرپٹ و خون چوس اشرافیہ کے خلاف حیرت انگیز طور کوئی لشکر متاثرین ،کوئی سپاہ غریب نہیں بنتی، ڈبل کیبن جیپوں کے دستوں کے ساتھ کوئی دینی غیرت کا غمخوار ملا ادھر سے ادھر اشرافیہ کے خلاف بھاگا نہیں پھرتا۔اس عظیم تر مقصد کی ترویج و تبلیغ کے لیے کوششاں کارکنوں کے وظیفوں کےلیے کوئی خرقہ پوش  ہلکان نہیں ہورہا،عظیم تر تحریکوں کا منبا و مسدر ریاستیوں کی فنڈنگ میں عوامی انتقام کا حصہ نہیں البتہ اشرافیہ اور بااثر افراد سے تعلقات بڑھنے کی مد موجود ہے،اس بنیاد پر لڑائی ہے ہی نہیں ،اگر آج ظالم و مظلوم کی لڑائی آپکا ایجنڈہ نہیں تب ماضی کے بڑے بڑے ناموں سے کچھ فرق نہیں پڑتا،اگر کرپٹ اشرافیہ سے جنگ نہیں تو کوئی سبائی ہے یاایوبی ،کوئی حسینی ہے یا یزیدی اصل میں ان کا دادا ایک ہی ہے اور وہ ہے سرمایہ۔
 وہ سرمایہ خواہ کس طرح حاصل ہی کیا گیا ہو ،کار خیر کے لیے میسر ہونا چاہیے،

غریب چاروں طرف سے بے وارث ہے ،مذہب کا ٹھیکے دار اور غیرت کا پلے دار بھی ان کے ساتھ نہیں ہے، پسا ہوا طبقہ ماضی سے زیادہ آج کے کردار کو دیکھے تو ہر کسی کی اصلیت کو جان سکتا ہے۔ بقول علامہ اقبال ہم تو اتنا ہی یاد کروسکتے  ہیں کہ  
اے گرفتارِ ابُوبکرؓ و علیؓ ہُشیار باش

Friday, 8 May 2020

نظر سے گرتی اور سنبھلتی تصویریں


کرپشن سب سے بڑا مسئلہ ہے مگر اسے ضرورت اور مجبوری قرار دے دیا گیا،بات ایک دوسرے پر ڈال گئی ،حمام میں سب ننگے ہیں،کس کے ساتھ چلا جائے اور کیسے چلاجائے ،لہذا بس چلا جائے کو ایک معاملاتی فہم قرار دے دیا گیا،آہستہ آہستہ حالات بہتر ہوں گے ،آہستہ آہستہ  بہتری آئے گی،حالانکہ ایسے کہنے والے اپنے ذاتی مفاد میں بلا کی تیزی دیکھاتے ہیں،ملک میں بہتری تیزی سے آئے یا آہستہ آہستہ ،کرپشن کے مقابلے کے لیے ایک طوفان کی صورت چاہیے،فائلوں کی الٹ پلٹ ،ہاں پہلے یہ کرتے ہیں ،پھر وہ کریں گےٖ،یہ سب دہائیوں سے گھسے پٹے فریب ہیں ،کچھ بھی نیا نہیں، کرپشن سے ایک ہنگامی حالات سے ہی نبٹا جاسکتا ہے،وہ جس کوانقلاب کہتے ہیں ،جسے یہ گھسے پٹے فریبی اور ان کے پالتو ناقابل عمل کہتے ہیں۔جس کی حقیقت کو محسوس کرتے ہوئےان کی دوٹانگوں کے درمیان سنسنی دوڑ جاتی ہے،ایسی حکومت قبول کرنی ہی نہیں چاہیے ،قیادت حکومت سے بڑی ہوتی ہے ،ایسی صورت میں حکومت تو مجھے ایک نہیں کافی سارے اسٹیک ہولڈرز کی تفہیم کا نتجہ لگتی ہے جس فرسودہ نظام کے تسلسل کے لیے عمران کوایک معذور و کمزور ترین حکومت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہواورجیسے ایک مضبوط شخص کواس خون چوس نظام کا ضامن طے کیا گیا ہو۔
ایسا لگتا ہے کہ وہ ضامن ہے کہ حکومت عمران کی رہے گی مگر کمزور رہے گی،حقیقی تبدیل اورانقلابی صورت حال پیدا نہیں ہونے دی جائے گی،اشرافیہ کی بدبودار فضلہ جمہوریت اوران کے بیچ ہی جوڑ توڑ کی کیفیت باقی رکھی جائے گی،جس طرح دانت کے نیچے ہڈی چبہتے محسوس کی جاسکتی ہے،اس طرح تبدیلی کے خواب کے بیچ ایک رکاوٹ محسوس کرلی گئی ہے
مخالفین کہتے ہیں کہ کوئی عمران کو حکمران بنانے اور اسکی حکومت بنی رہنے کا ضامن ہے ،لیکن اصل میں کوئی عمران کی کمزور حکومت کا ضامن ہے ،کوئی ضامن ہے کہ اک  پاگل پن پر مبنی نعرے نظام عدل پر واقعی ہی کوئی سنجیدہ نہ ہوجائے،باقی ہر چیز کا جواب یہ ہے کہ ابھی حالات نہیں اور ستر سال سے یہ حالات کبھی بنے ہی نہیں ،یہ بنانے پڑیں گے پہلی روش سے ہٹ کر۔
   


ایک موضوع اور بہت گرم ہے مگر مجھے راجہ دہر اور محمد بن قاسم کے موضوع میں بھی دلچپی نہیں ،بلکہ جس طرح سے یہ بحث ہوئی،اس جاہلانہ اختلاف سے اٹھنے والے دھواں سے آنکھیں کھاری ہوگئیں ،تعصب کی دھول میں تاریخ کے خدوخال تلاش نہیں کیے جاسکتے۔کردار، ماضی سے کہیں زیادہ حال میں آشکار ہوتا ہے، میں نے ڈرامہ ارطغزل کے چند ٹکڑے نیٹ پر دیکھ
ے مگر اس کا مستقل ناظر نہیں بن سکا،آج کا سچ کیا ہے ،آج کا کردار کیا ہے تاریخ سے زیادہ اہم موضوع ہے ،جب میں دیکھتا ہوں کوئی خود کو حسینی کہتا ہے اور آج کے طلم کے خلاف برسرپیکار نہیں ،صف دشمن میں کھڑا نظر آتا ہے یا پھر خاموش تماشائی تو مجھے تاریخ سے ربط کا تسلل ٹوٹتا محسوس ہوتا ہے

 بے ربط راستوں پر ماضی کی طرف چلنے کی بجائے میرے لیے آج امت کی وحدت کہیں زیادہ اہم ہے(اشرافیہ کااتحاد نہیں) بنام خلالق و مخلوق ایک ہوجائیں، انتشار کی تصویروں نے ایک وجود کے خوبوں کو ایسے مصلوب کر رکھا ہے کہ درد جینے بھی نہیں دے گا اور چین سے مرنے بھی نہیں دے گا
آج ایک اور تصویر بھی
ہے ،جسے دیکھ محسوس ہوا کہ لاتعلق وجود میں اب بھی کہیں کہیں برق موجود ہے
لہو کے چراغ جلنے لگے ہیں
روشنی کے سراغ ملنے لگے ہیں
شاعری کے رمز نہیں جانتا مگر الفاظ عطا ضرور ہوئے
چھوڑو راجہ اور بن قاسم کی بحث،اج کی تصویر پربات کرو،
آج ،آج کی بات کرو 
 اس قدر زیادہ کہ گزری باتوں کا ریکارڈ ٹوٹ جائے۔
آج جب میں شہید نائیکو کی تصویر دیکھ رہا تھا تو کافی دیر تک اس کے چہرے کو دیکھنے کے سوا کچھ بھی دیکھنے کو من نہیں کیا،کچھ دیر گری ہوئی تصویروں کے زخموں کو بھول گیا،اک شہید کی تصویر نے میری نظریں اوپر اٹھا دیں تھیں
ایک اور شہید
ارض پاک کا ایک اور جانثار
کم ہوگیا؟ نہیں ہر گز نہیں
دشمن یاد رکھے
ریاض نائیکو ایک کم نہیں ہواایک زیادہ ہواہے
ایک اور شہید زیادہ ہوا
ایک اور شہادت زیادہ ہوئی
ایک اور چراغ جل اٹھا
 روشنی اور زیادہ ہوئی

 -

Friday, 1 May 2020

میں گنہگار ہونا چاہتا ہوں (یوم مزدور کے موقع پر)


میرا رنگ بھی لال ہے ،لہو رنگ گہرا لال۔
کچھ لوگوں کو گمان گزرااور کچھ نے مجھے پوچھا بھی کہ آپ سوشلسٹ ہیں نہیں ہرگز نہیں ،مساوات محمدی ص میرا راستہ ہے ،خواہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والا ہو ،تاریخ سے تھوڑا سا آشنا ہوگا تو ظلم کے خلاف سب سے بڑی علامت سیدنا امام حسین ع کو ہی سمجھے گا،وہی میرے لیے مینار نور ہیں لاالہ الا اللہ آپ کو زمینی خداوں سے انکار سیکھاتا ہے ،مزدوروں، یتیموں ، مسکینوں غریبوں اور سفید پوشوں کی حمایت پر آمادہ کرتا ہے

میں کیمونسٹ نہیں اور اللہ پر کامل ایمان رکھتا ہوں مگر میں قومی بگاڑ کا حل اس کے سوا کچھ اور نہیں سمجھتا کہ گھر کو مکمل طور پر صاف کرنا ہوگا،موجود ظالم اشرافیہ کی تمام دولت اور اثاثوں کو ایک بار ریاست کے قبضے میں لا کر نئی معیشت کی بنیاد رکھنی پڑے گی اور نئے قوانین کی مدد سے اس نئی معیشت کو مستقل تحفظ دینا ہوگا، ایک مفتی صاحب نے کہا توبہ توبہ یہ بڑا گناہ ہے میں نے عرض کی کہ مٹھی بھر اشرافیہ سے دولت چھیننے کے گناہ کو کروڑوں انسانوں کے استحصال سے مائنس کروادوں گا،باقی یہ  بات کہ ملیں اور فیکٹریاں، بند ہو جائیں گی، نہیں بند ہوں گی اگر کہیں ماضی میں ناکام تجربہ ہوا تو وجہ ناقص پلان تھا اس آگے میرا سوال یہ ہے کہ دہائیوں سے جس ظلم کے راستے پر آپ ہیں ،اس سے کس بہتری کے امکان نے جنم لیا؟
انسانوں کو جہنم سے نکالنے کے لیے اگر تمہاری راہ میں اشرافیہ کے خلاف خوف خدا اور ایمان حائل ہے تو پھر یہ گناہ مجھ پر ڈال دو، یہی نہیں ظالم اشرافیہ اور کرپٹ مافیا  کو ان گھناونے جرائم کی پاداش میں سرعام سزائے  موت سنائی جائے ،یہ گناہ بھی میرے اوپر ڈال دینا،میں سمجھتا ہوں کہ میرے غریب اور مزدور کے حالات انصاف پر مبنی معیشت کے بغیر نہِں بدلیں گے جس کی راہ میں  حائل دست قاتل کاٹنا ہوگا
میں سوشلسٹ نہیں مگر اپنی تحریروں میں جالب کے اشعار ضرور لکھوں گا ، جو اسلام سے متصادم نہیں ،ہاں مگر موجودہ نظامِ ظلم، اسلام سے اور اللہ و رسول کے حکم سے متصادم ضرور ہے اور اسکی مخلوق کا قاتل ہے ۔میں ان تمام گنہگاروں کے لیے ایک عجیب سی قربت کا احساس رکھتا ہوں جن کی جدوجہد پسے ہوئے طبقے کے لیے تھی
آخر میں حبیب جالب کے قابل عمل اشعار شامل کررہا ہوں، جس کی راہ میں صرف ایک پردہ حائل ہے 
  

کھیت وڈیروں سے لے لو
ملیں لٹیروں سے لے لو
ملک اندھیروں سے لے لو
رہے نہ کوئی عالی جاہ

پاکستان کا مطلب کیا
لا الہ الا اللہ

بات یہی ہے بنیادی
غاصب کی ہو بربادی
حق کہتے ہیں حق آگاہ

پاکستان کا مطلب کیا
لا الہ الا اللہ

Wednesday, 29 April 2020

نئی ذمہ داری





 
شبلی فراز صاحب اور جنرل (ر) عاصم باجوہ کو نئی ذمہ داری پر خوش آمدید
لیکن                                       
اگر #ظالم_اشرافیہ اور #کرپشن_مافیا کے خلاف کھل کر #بیانیہ نہ دیا،کرپٹ قومی مجرموں کے بارے اظہار نفرت نہ کیا،اگر ظالم اشرافیہ کے گٹھ جوڑ کو #ملی_یکجہتی قرار دیا،اگر ناپاک اتحاد اور ملکی دباو میں کنکشن کاٹنے کو ترجیع میں نہ رکھا ،اگر #میڈیا فرعون کو مثال عبرت نہیں بنایا،ملک و قوم کے خلاف مستقل مورچہ اسکا ادارہ بند نہ کیا اور قومی ایجنڈے کو ناقابل عمل ایجنڈہ سمجھا
تو پھر ناخوش آمدید
تو پھر آپکی طاقت ہماری طاقت نہِں ہمارے دشمن کی طاقت ہے۔تب آپکی آمد اکثریت مظلوم طبقے پر ایک اور بوجھ کے سوا کچھ بھی نہیں، لاکھوں ستم میں ایک اور ستم کے سوا کچھ بھی نہیں،ہمیشہ یاد رکھا جانا چاہیے نواز رہائی بدترین حکمت عملی تھی۔آئندہ ایسی حکمت عملی کی توقع نہیں رکھتے
(جنرل عاصم اگراپنے فوجی بیک گراونڈ کی وجہ سے #سول_ملٹری_لڑائی کے تاثر سے بچنے کے لیے محتاط رہے تو پھر بڑی دقت ہوگی، #عمران کا کرپٹ اور ظالم اشرافیہ مخالف بیانیہ آنا چاہیے باقی #فوج کے موقف کے لیے #ISPR پوری طرح موجود ہے )
#حکومت برائے حکومت نہیں ، عہدہ برائے مرتبہ نہیں ، ظاقت برائے عیاشی نہیں ،اخیتار برائے ذاتی مفاد نہِں ،
#دو_نہیں_ایک_پاکستان کی توقع رکھتے ہیں اور یہی اچھی توقعات ہیں
#Pakistan
#Government
#Ministry Of #Information
#Media

Monday, 27 April 2020

جھوٹ تو نہیں بولتے!


میڈیا کی بڑی اہم ذمہ داری ہے،میرے نزدیک جس وقت جو کچھ لکھنا اور دیکھانا  چاہیے اس سپیس (جگہ) اور وقت کو کسی کام میں لگانا یا غلط بیانی کئیے بغیر توجہ اصل معاملے کی بجائے کسی اور طرف لگانا بھی بہت بڑاجھوٹ ہوتا ہے اور جس قدر مقاصد گھناونا ہوگا اس قدر جھوٹ سنگین ہوگا۔اگر کسی کے جھوٹ کی وجہ سے قتل ہوگا تو وہ شریک قاتل ہے ،اگر کسی ناپاک حربے کی وجہ سے دہشتگردی ،کرپشن اور کسی بھی مجموعی قومی نقصان کو کسی جہت میں کوئی بھی  گھناونا راستہ ملے گا تو جھوٹ ہوگا اور ناپاک مجرمانہ جھوٹ ہوگا , 
 ،کچھ سچ ایسے ہوتے ہیں جو فساد کے باعث ہوتے ہیں اور کچھ سچ،اصل سچ کی جگہ بول دیے جاتے ہیں اور کچھ سچ کمزوری کی حالت میں اس لیے سامنے لائے جاتے ہیں تاکہ ان کو مشق ستم بنایا جائے اسے گردن سے دبوچا جائے،کسی سج کو رسوا کرنا مقصود ہوتا ہے کسی سچ کو مذاق کا نشانہ بنانا ہوتا ہے ،کسی سچ کے ساتھ گھناونا شک گھولدیا جاتا ہے اور کسی سچ کے ہاتھ پاوں باندھ کر پٹڑی پر ڈال کرفرض نبھایا جاتا ہے ،جبکہ جھوٹ کو تمام تر مطلوب توانائی حاصل ہوتی ہے
یہ چمن اجڑا ہے اسے نوچا گیا ہے ،یہ اشرافیہ کی فیکڑی ہے ،دہائیوں سے اسے بس اس قدر سلامت رکھا گیا جس قدر یہ مٹھی بھر اشرافیہ کو منافع دے سکے ،یہ ہی الفت اور لگاو ہے باقی سب چھوٹ ہے
 بے لگام ہوس اور سرمایہ دارانہ سوچ نے فریب ، جھوٹ اور سازش کا بے دریغ استعمال کیا اور ان کے نزدیک میڈیا ان کاموں کے لیے بہت موزوں تھا۔سرمایہ اور طاقت کے کھیل میں میڈیااہم جز ہے
اگر جانتے بوجھتے ایک وکیل ایک مجرم کو بے خطا ثابت کردیتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ میرا پیشہ ہے تو پیشہ نہیں جرم اور گناہ ہے ،دھوکہ دہی اور شیطانی حربوں پر غور کریں تو بعض اوقات اس طرح سچ بولے جاتے ہیں ان کو کمزور کیا جائے اور وہ کہیں جڑ نہ پکڑجائے ،بعض اوقات اس طرح سچ بولا جاتا ہے کہ تاکہ جھوٹوں کے انبار پر مہر تصدیق لگوائی جاسکے ،یہ میڈیا ہی ہے جو بڑے بڑے مجرموں کو جرم ثابت نہ ہونے تک باعزت قرار دیتا ہے ، مجرموں سے نفرت کو زائل کرتا ہے دباو و تناو پیدا کرتا ہے اور راہ ہموار کرتا ہے کہ مجرم کو باعزت بری کیا جائے ،یہ طاقت ور مجرموں کی انسانی مجبوریوں کا پرگداز نوحہ پڑھتا ہے تو ان مجبوروں کو بھی آنسو پوچھنے پر مجبور کردیتا ہےجن کے ہاتھ ابھی اپنے رستے ہوئے زخموں پر تھے،وہ ناگزیر قومی فیصلوں کو ناقابل عمل بنا کر پیش کرتا ہے ،اشرافیہ کے ظلم کے راستوں پر صبح شام جھاڑو مارا گیا،انکے کردار کو جانتے بوجھتے ان کو مزید اختیار دلانے کو انصاف کہا گیا،انصاف کی نحیف کوشش کے سامنے حمام میں سب ننگے کا شور اٹھا دیا۔

           انقلاب کو منفی اور چور اتحاد کو مستقبل کا راستہ کہا
 کرپشن ہوتی رہتی ہے مگر آپ آگے بڑھیں کا تصور دیا،    
. پیالی کے طوفان کو ملک کا طوفان کہا
بڑی منڈیوں کے پالتو ،چھوٹی منڈیوں کاٹ کھانے والوں اور نچلے طبقے کا خون چوسنے والوں کو مجبور کہا
 نظام عدل اور طبقاتی جنگ کی جگہ پنجاب ،سندھ کے حقوق اور سول ملٹری کی بالادستی کا ہلڑ مچایا
،جعلی لیڈرشپ چمکائی، مسائل کی وجوہات کو مسائل کاحل کہا ،
عالمی بلیک مارکیٹ کی طرز پر بین القوامی انڈر گراونڈ بیس وجود میں آتی ہے جن کے نتیجے میں چلنے والے نیٹ ورکس کو خفیہ ایجنسیاں نہیں کہا گیا،
آزادی صحافت ہی کہا گیا،
آزادی صحافت کے نام پر غیر ملکی دباو ڈلوایا گیا اور اسے صحافت کا سفر تعبیر کیا گیا،
کالےدھندے ،مکروہ کاروبار اور تشہیری مہم کو صحافت ہی کہا گیا
یہ سب بھیانک سچ ہیں جوان مقاصد کو اور خصائل کو نگل گیا جو کتابوں میں لکھے ہیں
یا چند دائرے سے نکلے ہوئے انسانوں کے ذہنوں میں اٹکے ہیں ،یقینا صحافت دودھ اور شہد کی طرح تھی مگراس میں زہریلے کیمیکل ملا کر کثیر کیا گیا اب کثیرجہتی اور وسیع کردار رکھتی ہے اور مجوعی طور پر اکثریت پسے ہوئے طبقے کے برخلاف ظالموں کی طاقت بنی ہوئی ہے۔وسائل کو قبضے میں رکھنے کی شیطانی سوچ کا سب سے بڑا ہتھیار سازش ہے بڑے پیمانے پرعوام الناس کو بیوقوف بنانا،ان  کے لیے سب بڑا ذریعہ ہے ،اگر نہیں سمجھے تو یوں سمجھیں کہ ترقی پزیر(1)ممالک میں اس استحصالی سوچ کا پیٹ بینکنگ سسٹم کو مانا جائے تو اس کے ہاتھ میڈیا ہے جس کے ذریعے لقمہ منہ تک پہنچ پاتا ہے ،تشہیر اور طے شدہ خبروں کے ذریعے اہداف حاصل کیے جاتے ہیں،معاف کیجیے گا بیوقوف بننے کے اس عمل کا حصہ خود بڑی اکثریت میڈیا ورکرز کی بھی ہے،
باقی ہمارے ملک میں میڈیا سے ملک و قوم نے کیا کھویا کیا پایا تو بہت زیادہ کھویا ،زہریلے کیمیکل کی آمیزش نے سارا دودھ زہر بنادیا، اور میڈیا کے قومی ثمرات کا حساب یہ ہے کہ آپ کو اعلانیہ دس دیے جائیں گے مگر چپکے سے آپکا سو یا ہزار کا نقصان ہوجائے گا۔استحصالی نظام قاتل دھوکے کی فیکڑی اور اکثریت کارکنوں سے بالاتر اکثریت میڈیا اپنے خاص پیٹھوں سمیت بڑے بھاری جھوٹوں کی مشینیں ہیں

(1) انشااللہ کسی وقت ترقی پزیر پر بات کروں گا اور دوسرا یہ موضوع کہ ترقی یافتہ ممالک میں میڈیا کا کردار مختلف ہے
 (2)
 ایک گرفتار میڈیا ڈان کا دباو اور حکومت ، میرا اگلا موضوع ہوگا،ایک طرح سے آج کے موضوع کا تسلسل
ہوگا

Wednesday, 22 April 2020

کرپٹ عناصر پر گیٹ نمبر 4 بند ہونا چاہیے

نواز رہائی بدترین حکمت عملی تھی ،یکجہتی کا مظاہرہ مظلوم عوام سے کریں ،ظالم اشرافیہ سے نہیں،عوام کو سات دہائیوں سے ناکردہ گناہ کی سزا دینے والے کرپٹ عناصر کو سزا دیں ،پہلے لوگ ملک کی حفاظت کرنے والوں کو کرپٹ و غدار عناصر کے خلاف آخری رکاوٹ سمجھتے تھے ،اب یہ اضطراب بڑھنے لگا ہے کہ کرپشن کے خلاف علامت عمران خان جو کرنا چاہتا ہے وہ نہیں کرپارہا کسی روایتی تھانیدار کی ڈھیلی پتلون قسم کی سوچ حاوی نظر آتی ہے ،اسمبلیوں میں اکثریت ظالم اشرافیہ سے جان چھڑوانے کی بجائے معذوری کو برقرار رکھا گیا،چل چلاو کو روا سمجھا گیا اور کرپشن کو بڑا مسئلہ نہیں سمجھا گیا، بے بسی کی پروا نہیں کی گئی جو طاقت ور پکڑا گیا اس سے مک مکا کا آپشن باقی رکھا گیا،یہ سب عمران نہیں کررہا ،اپنے مخالف عمران کو جانتے ہیں،جب زیادہ دباو پڑا تو عمران نے بات اپنے اوپر لے لی تب بھی لوگ جانتے تھے نواز کو نکالنے کا فیصلہ عمران کا نہیں،اب اگر کوئی کرپٹ باہر ہوتا ہے تو کسی کو شک نہیں ہوگا یہ کس طرح ہورہا ہے اور کون طاقت کا سرچشمہ ہے ، ذاتی مفادات کی سیاست ختم ہونی چاہیے ، نیز ثابت ہونا چاہیے کہ مدت ملازمت میں توسیع سے ملک و قوم کو کیا فائدہ ہوا؟
ماضی کی طرح بڑے بڑے کرپشن کیس بس کچھ سطحی سی شرائط تک محوود ہیں،ہم دیکھ چکے ہیں کہ مشرف کے این آر او کے بدترین نتائج نکلے،آپ دس سال ملک نہیں آئیں گے جیسی تمام سطحی جگاڑوں کا کیا نتیجہ نکا؟ 



آپ کے پچھلوں نے جس مرحلے کے لیے اتنا زور لگایا تھااس موقع کو برباد کیا جارہا ہے
وہ ناداں گر گئے سجدے میں جب وقت قیام آیا
اب جب وقت آیا تھا،آپ نے ہاتھ باندھ لیے، کچھ دباو نیچے والوں کا بھی ہوتا ہے ، کیوں یہ موقع برباد کیا جارہا ہے اور اگر مریم یا کوئی بھی ریکارڈیڈ مواد سے کسی کو بلیک میل کررہا ہے تو بھی اس کی قیمت ملک و قوم نہیں.اب تک اسمبلیوں میں صفائی کا عمل نہ شروع ہونا،عمران کے خلاف بلیک میلنگ کی صورت کو تحفظ حاصل ہونااور ضروری قوانین جو درکار ہیں انکا ہاتھ سے بہت دور ہونا، بہت سے سوالات کو جنم دے رہا ہے؟ یہ سوال پوری شدومد سے پرورش پارہے ہیں ،اس دور میں رکاوٹوں کی جو تصویر بن کرسامنے آرہی ہے وہ بھی بڑی عجیب سی ہے،برائے نام ملکی مفاد مگر سطحی شرائط ایک ناقابل تلافی غلطی ہوگی،شرائط منوانے کے لیے نہیں حقیقی طور پر مجرموں کو مثال عبرت بنانے کے لیے کردار ادا کرنے کا وقت ہے، آئی ایم ایف کی عینک اتار سمجھنا ہوگا،کرونا کے موجودہ اور بعد کے حالات کا تجزیہ ہمیں راستہ دیکھارہا ہے ،اس وقت مجرموں سے جان چھڑوانے کا درست موقع بھی اللہ نے دے رکھا ہے۔ جبکہ بہت سے ممالک جب صفر سے معیشت شروع کررہے ہوں گے تو آپ نیا اور بہتر راستہ منتخب کریں۔اس وقت یااس سے زیادہ ،مشکل حالات ہوں نبٹنے کے لیے فوجی حکومت کی بلکل ضرورت نہیں بلکہ عمران کی حکومت کو آپ کی طاقت کی ضرورت ہے،زبانی نہیں عملی طور پر نظرآنا چاہیے،کرپشن مافیا اور نظام عدل کے بیچ و بیچ کوئی کردار نہیں ہوتا جس طرح شیطان اور رحمان کے درمیان کوئی کام کرنے کی گنجائش نہیں

Saturday, 18 January 2020

یوٹرن امید کا دروازہ بھی ہے


عمران خان نے ملک کی سب سے بڑی و
کرپٹ
مافیا کو چیلنج کیا، جسکے نتیجے میں انہیں بڑی سخت مخالفت اور سازشوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، صاف ظاہر ہے کہ یہ مافیا طاقت ور ہے اور دوسری طرف ان کو یہ صلاحیت حاصل بھی ہے کہ جن اکائیوں کے مجموعہ کو ریاست کہتے ہیں ہیں ان کو متفقہ طور پر اپنے خلاف کام نہ کرنے دیں ‫ عمران خان چاہتے تھے کہ بڑے مجرموں کو سزا ملے مگر اس معاملے میں ریاست  ایک متحدہ قوت نہ بن سکی، کھینچا تانی کا یہ عالم رہا کہ غیر اعتمادی کا درجہ آخری حد پر پہنچ گیا
برہنگی کا یہ دور شاید اپنی کوئی مثال نہیں رکھتا، ہر معتبر انتہائی غیر سنجیدہ  اور ذاتیات کے چھوٹے پن سمت مکمل طور پر دیکھ لیا گیا
اس سوچ کو تقویت ملتی ہے پاکستان میں ایسا ہوتا رہا ہے، ایسا ہورہا ہے اور ایسا ہی ہوتا رہے، باقی سب زبانی جمع خرچ ہے اور عمران کے حوالے سے جو تحریک اٹھی تھی یہ بھی ماضی کی طرح ایک فریب کا تسلسل ہے، اس زیادہ کچھ نہیں
مزید یہ کہ ماضی کی طرح جو کہا جارہا ہے بلکل اہم نہیں اور ماضی کی طرح جو رہا ہے وہی حقیقت ہے
اس میں دلچسپ بات ہے کہ سوکالڈ معیشت ٹھیک کرنے کا ایجنڈا بھی ماضی سے چندا مختلف نہیں
اور اگر میں اپنے لہجے میں پوچھوں تو یہ یہی کہوں گا کہ او بھائی بیوقوف کس کو بناتے ہو جب ہر چیز ماضی جیسی ہے تو نتائج بھی ماضی جیسی ہوگی ،ماضی میں معیشت ٹھیک نہیں ہوسکی اب بھی اس راستے سے نہیں ہوگی
ماضی میں  مرکزی حکمران یعنی قیادت خود کرپشن کررہے تھے تو اب ساتھ شامل عناصر اس سازگار ماحول میں کریں گے ،بلیک میلر فائدہ اٹھا رہے ہیں، یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے ہے کہ کرپشن کے بڑے مجرم جو جال میں پھنسے تھے  اس صورت حال کا کسی نے ذاتی فائدہ تو اٹھایا ہوگیا، کہیں کوئی بھاری رقم چند شخصیت کی طرف تو نہیں چلیں گئیں، آخر اتنا سادہ معاملہ تو نہیں تھا اور جس لیول کی بے انصافی اور قانون ونظام کو مذاق بنایا گیا اس کی قیمت کیا ہوگی؟  اور سوال بھی ہے کیا عدالیہ کی کالی بھیڑیں مرکزی کردار کی حثیت بناسکتیں تھی
اسی طرح دیگر سوالات بھی جنم لیتے ہیں اور بہت کمزوریوں کی نشان دہی بھی ہوتی ہے
اب باقی لے دے کر یہ بچا ہے کہ کپتان خود کرپٹ نہیں اور مخلص ہے جس کے جواب میں بہت تند وتیز نشتروں سے یہ وار کیا جاتا ہے کہ ہم نے اس کی ایمانداری کا اچار ڈالنا ہے جبکہ بد سے بدترین ہوئے جارہے ہیں، ،عمران کے نظریاتی کارکن کرپٹ عناصر کو مثال عبرت ناک نہ بنانے پر ناراض ہیں، جبکہ بظاہر ساتھ شامل حکمران طبقہ نجی محفلوں میں عمران کی ایمانداری کا مذاق اڑاتے ہیں
اب عمران خان اس کام کو سیکھنے میں لگا ہوا ہے جس کو تبدیل کرنا ہے اور سچ پوچھیں تو اس نظام کو ہی چلانا ہے تو اس کے بہت چالو قسم کے عمران سے زیادہ قابل افراد موجود ہیں
عمران وہ کرے جس کے لیے پیدا ہوا ہے
اب اس کے لئے اور کوئی راستہ نہیں کہ وہ اپنے حقیقی موقف کی طرف یوٹرن واپس لے ورنہ نہ نظام، نہ معیشت ٹھیک ہوگی نہ انصاف ملے گا بس ماضی کی طرح قبریں بھاری ہوتیں رہیں گی


Monday, 13 January 2020

بسم الله


اس پیج کو  فعال کررہے ہیں
بسم الله الرحمن الرحیم