کرپشن سب سے بڑا مسئلہ ہے مگر اسے ضرورت اور مجبوری قرار دے دیا گیا،بات ایک دوسرے پر ڈال گئی ،حمام میں سب ننگے ہیں،کس کے ساتھ چلا جائے اور کیسے چلاجائے ،لہذا بس چلا جائے کو ایک معاملاتی فہم قرار دے دیا گیا،آہستہ آہستہ حالات بہتر ہوں گے ،آہستہ آہستہ بہتری آئے گی،حالانکہ ایسے کہنے والے اپنے ذاتی مفاد میں بلا کی تیزی دیکھاتے ہیں،ملک میں بہتری تیزی سے آئے یا آہستہ آہستہ ،کرپشن کے مقابلے کے لیے ایک طوفان کی صورت چاہیے،فائلوں کی الٹ پلٹ ،ہاں پہلے یہ کرتے ہیں ،پھر وہ کریں گےٖ،یہ سب دہائیوں سے گھسے پٹے فریب ہیں ،کچھ بھی نیا نہیں، کرپشن سے ایک ہنگامی حالات سے ہی نبٹا جاسکتا ہے،وہ جس کوانقلاب کہتے ہیں ،جسے یہ گھسے پٹے فریبی اور ان کے پالتو ناقابل عمل کہتے ہیں۔جس کی حقیقت کو محسوس کرتے ہوئےان کی دوٹانگوں کے درمیان سنسنی دوڑ جاتی ہے،ایسی حکومت قبول کرنی ہی نہیں چاہیے ،قیادت حکومت سے بڑی ہوتی ہے ،ایسی صورت میں حکومت تو مجھے ایک نہیں کافی سارے اسٹیک ہولڈرز کی تفہیم کا نتجہ لگتی ہے جس فرسودہ نظام کے تسلسل کے لیے عمران کوایک معذور و کمزور ترین حکومت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہواورجیسے ایک مضبوط شخص کواس خون چوس نظام کا ضامن طے کیا گیا ہو۔
ایسا لگتا ہے کہ وہ ضامن ہے کہ حکومت عمران کی رہے گی مگر کمزور رہے گی،حقیقی تبدیل اورانقلابی صورت حال پیدا نہیں ہونے دی جائے گی،اشرافیہ کی بدبودار فضلہ جمہوریت اوران کے بیچ ہی جوڑ توڑ کی کیفیت باقی رکھی جائے گی،جس طرح دانت کے نیچے ہڈی چبہتے محسوس کی جاسکتی ہے،اس طرح تبدیلی کے خواب کے بیچ ایک رکاوٹ محسوس کرلی گئی ہے
مخالفین کہتے ہیں کہ کوئی عمران کو حکمران بنانے اور اسکی حکومت بنی رہنے کا ضامن ہے ،لیکن اصل میں کوئی عمران کی کمزور حکومت کا ضامن ہے ،کوئی ضامن ہے کہ اک پاگل پن پر مبنی نعرے نظام عدل پر واقعی ہی کوئی سنجیدہ نہ ہوجائے،باقی ہر چیز کا جواب یہ ہے کہ ابھی حالات نہیں اور ستر سال سے یہ حالات کبھی بنے ہی نہیں ،یہ بنانے پڑیں گے پہلی روش سے ہٹ کر۔


ایک موضوع اور بہت گرم ہے مگر مجھے راجہ دہر اور محمد بن قاسم کے موضوع میں بھی دلچپی نہیں ،بلکہ جس طرح سے یہ بحث ہوئی،اس جاہلانہ اختلاف سے اٹھنے والے دھواں سے آنکھیں کھاری ہوگئیں ،تعصب کی دھول میں تاریخ کے خدوخال تلاش نہیں کیے جاسکتے۔کردار، ماضی سے کہیں زیادہ حال میں آشکار ہوتا ہے، میں نے ڈرامہ ارطغزل کے چند ٹکڑے نیٹ پر دیکھے مگر اس کا مستقل ناظر نہیں بن سکا،آج کا سچ کیا ہے ،آج کا کردار کیا ہے تاریخ سے زیادہ اہم موضوع ہے ،جب میں دیکھتا ہوں کوئی خود کو حسینی کہتا ہے اور آج کے طلم کے خلاف برسرپیکار نہیں ،صف دشمن میں کھڑا نظر آتا ہے یا پھر خاموش تماشائی تو مجھے تاریخ سے ربط کا تسلل ٹوٹتا محسوس ہوتا ہے
بے ربط راستوں پر ماضی کی طرف چلنے کی بجائے میرے لیے آج امت کی وحدت کہیں زیادہ اہم ہے(اشرافیہ کااتحاد نہیں) بنام خلالق و مخلوق ایک ہوجائیں، انتشار کی تصویروں نے ایک وجود کے خوبوں کو ایسے مصلوب کر رکھا ہے کہ درد جینے بھی نہیں دے گا اور چین سے مرنے بھی نہیں دے گا
آج ایک اور تصویر بھی ہے ،جسے دیکھ محسوس ہوا کہ لاتعلق وجود میں اب بھی کہیں کہیں برق موجود ہے
لہو کے چراغ جلنے لگے ہیں
روشنی کے سراغ ملنے لگے ہیں
شاعری کے رمز نہیں جانتا مگر الفاظ عطا ضرور ہوئے
چھوڑو راجہ اور بن قاسم کی بحث،اج کی تصویر پربات کرو،
آج ،آج کی بات کرو
اس قدر زیادہ کہ گزری باتوں کا ریکارڈ ٹوٹ جائے۔
آج جب میں شہید نائیکو کی تصویر دیکھ رہا تھا تو کافی دیر تک اس کے چہرے کو دیکھنے کے سوا کچھ بھی دیکھنے کو من نہیں کیا،کچھ دیر گری ہوئی تصویروں کے زخموں کو بھول گیا،اک شہید کی تصویر نے میری نظریں اوپر اٹھا دیں تھیں
ایک اور شہید
ارض پاک کا ایک اور جانثار
کم ہوگیا؟ نہیں ہر گز نہیں
دشمن یاد رکھے
ریاض نائیکو ایک کم نہیں ہواایک زیادہ ہواہے
ایک اور شہید زیادہ ہوا
ایک اور شہادت زیادہ ہوئی
ایک اور چراغ جل اٹھا
روشنی اور زیادہ ہوئی
-