Sunday, 22 November 2015

مجھے ایک ایمبولینس لے دیں




جو چیز آپ کے پاس ہوتی ہے ، اس کا خیال آپ اکثر اس طرح نہیں کرپاتے مگر جو چیز آپ سے دور ہوتی ہے وہ آپ کی سوچ میں اپنی جگہ بنالیتی ہے ،جہاں میں ہوں وہاں سے کافی دور ایک شہر صادق آباد ہے،یہ سندھ کی سرحد پر یہ پنجاب کی آخری تحصیل ہے اور ضلع رحیم یار خان ہے ،صادق آباد سے تقریباً تیس کلومیٹر کے فاصلے پر ایک ایک بستی ہے ،ولہار ،خستہ حالت راستوں کے پاعث ولہار اور اس کے ملحقہ علاقوں کے فاصلے شہر سے دوگنا بڑھ جاتے ہیں۔تقریباً دس ہزار کی آبادی کے بیماروں کو علاج کے لیے صادق آباد کے ہسپتال اور پھر اس سے بھی آگے شہر رحیم یار خان کے ایک بہتر ہسپتال  شیخ زید ہسپتال تک پہچنے کے لیے کوئی انتظام نہیں ہے

نجانے کتنی ایسی بستیاں ہوں گی مگر تعلق یا کوئی واسطہ ہی جذبات کو راستہ دیتا ہے ،خوشی غم یا درد کسی راستے کے بغیر آپ تک نہیں پہنچ پاتے ،یہ بھی عجب ہے کہ جذبات یکا یک ہم پر وارد ہوتے ہیں اور پھر یہاں تک گزرا نہیں کرتے ہم پر ذمہ داریاں عائد کرتے چلے جاتے ہیں، برحال ولہار بستی کا درد اس گھر میں داخل ہوگیا 

یہاں کے لوگوں کا مطالبہ ہے کہ اگر ان کو ایک ایمبولینس میسر آجائے تو اس کے استعمال کے اخراجات کا مشترکہ طور پر یعنی امداد باہمی کے تحت خود انتظام کرلیں گے،وہ اور بھی بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں ،مثلاً پینے کے صاف پانی کا حق حاصل کرنے لیے کوشش کرنا چاہتے ہیں ، کچھ کرنے کی ہمت رکھنے والے غریب دیہاتی ٹیم کی حونصلہ افزائی ضرور ہونی چاہیے ،اس ٹیم کا لیڈر سفید ریش مگر جواں عزم انسان ہے جس کا نام نور حسن ہے،اپنے بوڑھے ہاتھوں میں ہتھوڑا لیے ریلوے لائن پر پتھر کوٹتے کوٹتے نور حسن دو چار چوٹیں میرے دل پر بھی مار گیا ،کچھ دن میں بستی ولہار میں رہ چکا ہون، تصدیق کرچکا ،ضرورت دیکھ لی ،اعتماد بلکہ یقین ہے نور حسن اور اس کے ساتھی سچ کے راستے پر ہیں۔ اب میں یہاں دور سےبھی وہاں ان راستوں پر سفر کرنا چاہتاہوں،جو بھی میرے ساتھ چلنا چاہے اس کے لیے نقشہ پیش کردیا گیا ہے۔ اللہ تو ہر راستے میں آپ کے ساتھ ہوتا ہے مگر مجھے یوں لگتا ہے کہ اس راستہ کے دوسری طرف وہ بہت منتظر ہے۔ 


نور حسن کا رابطہ
+923023689312

Saturday, 26 September 2015

کریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہے


کوئی خیال ، شعر یا جملہ کچھ دن سوچ اور زبان کے بیچ جھولا جھولتا رہتا ہے،اب جناب مرحوم مرزا غالب کا یہ شعرصاحب ہیں،زوروں سے چمٹے ہوئے ہیں۔اے بھائی صاحب ،جی ہاں آپ ،میں آپ سے مخاتب ہو٘ں شعر بھائی صاحب،کیوں پیچھے پڑے ہوجی مگر شعر صاحب بھلی سی صورت بنائے ،نیند سے جاگے کسی بچے کی طرح حیرانی سے تکنے لگا چنانجہ میں  نے بھی سختی سے پیش آنے کا ارادہ ترک کردیا


لیں آپ بھی دیکھ لیں یہ ہیں وہ شعر صاحب  

جلا ہے جسم جہاں دل بھی جل گیا ہوگا
کریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہے



شعر صاحب نے تو بتایا نہیں کہ اس "آج اور کل" میں یوں آنے کا مقصد کیا ہے ؟ اور دماغ شریف تو خیر اور ہی باتوں میں لگے ہوئے ہیں تو پھر سرسری طور پر سوچا کہ اس واردات کو کیا عنوان دیا جائے۔۔۔۔۔ پسند جی ہاں "پسند" ۔۔۔ اچھا تو مشکل سے آسانی کی خواہش نے یہ بہانہ کیا ہے ۔۔۔ہوں اور میں زیر لب بہت سنوار کر یوں گویا ہوا کہ آج کل یہ شعر مجھے پسند آیا ہوا ہے ویسے "یاد آیا ہوا ہے" کہتا تو بات کچھ سچی سچی سی لگتی۔۔۔یاد آیا ۔۔۔ہیں ، اس کا  کہیں یادوں سے کوئی تعلق تو نہیں ؟
ایک سپاہی چور کے پیچھے بھاگا، ارے۔۔۔ نہیں، میں نے روکا کس لمبے بکھڑے میں پڑنے لگے ہو ۔۔۔ ہاں یا د آیا کہیں آرزو کے موضوع میں اس شعر کی آتما بھٹک تو نہیں رہی ؟ شاید آج بھی آرزو کے موضوع پر کافی دیر میں تنہا دور تک چلتا رہا تھا اور میں نے کچھ ؛لکھا بھی تھا ،کہاں گیا۔۔۔ یہاں۔۔۔ اس طرف،ادھر۔۔۔۔ ہاں یہ رہا ،میں نے لکھا تھا کہ     

انسانی آرزوئیں انتہائی نازک ہوتی ہیں،ان کے پورے ہو نے کا ایک وقت ہوتا ہے، وقت گزر جانے کے بعد اکثر آرزویں حسرتوں میں تبدیل ہوکر ہمیشہ کے لیے دفن ہوجاتیں ہیں اور کچھ اپنی ہی آرزوں سے انسان اس قدردور ہونا چاہتا ہے کہ اس 
کی پرچھائیوں سے بھی بھاگتا ہے

او ہو یہ بات بھی نہیں ہوگی آرزو بعد میں اور یہ جناب پہلے ٹپکے تھے ،ایک تو خود سے جواب نہیں ملتا ،گر ملے بھی تو فقظ اتنا ہی کہ پھر کبھی سہی پیارے ابھی کہیں اور ہوں۔۔۔۔اور دوسرا کوئی بتاتا بھی تو نہیں ،پوچھ بیٹھوں اپنا آپ سارا اس میں ڈال دے گا مگر اس بات کا جواب نہیں دے گا جو پوچھی ہو۔
ایم،یم،یم۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوئی اور شعر کیوں نا سوچا جائے شاید کہ بات بن جائے کوئی حوالے سے مفہوم ہی نکل
آئے۔ دیکھیے اب کون سے اشعارآئَے جاتے ہیں

میر ہم مل کے بہت خوش ہوئے تم سے پیارے
اس  خرابے  میں  میری  جان   تم   آباد  رہو
،،،،،،،،،،،،،،،،،
  تنگی دل کا گلہ کیا یہ وہ کافر دل ہے
کہ اگر تنگ نہ ہوتا ے تو پریشاں ہوتا
...............

میں تجھ کو پا  کے  تجھی  کو صدائیں دیتا ہوں
تو میرے دل میں اتر کر بھی کیوں سفر میں رہا

...............
اک دیا جل رہا ھے شب_ تاریک میں
اندھیرا اس کی لو میں گم ھے


یوں طرح طرح کے اشعار اطرف نمودار ہونے لگے، کہیں ہنگامہ نہ ہوجائے ہم نے گھبرا کردفتر بند کردیا،ہمارے پاس وقت نہیں لگانے کو یا پھر یوں ہی کہیں کہ لہو نہیں جلانے کو وگر نہ یہ قصہ تو باہر نکال ہی لیتے اور یہ سب باقی اشعار بھی جو ساتھ نبھانے آنکلے ہیں ان کے بارے میں بھی بس اتنا ہی کہ یہ آجکل پسند آئے ہوئے ہیں۔

Thursday, 24 September 2015

میرا احتجاج


 احتجاج۔احتجاج۔احتجاج


عید الأضحى کے دن ۔ چار بجے ۔ لاہور پریس کلب

گزشتہ عید الفطر، بول ٹی وی ، پاکستان کے بہترین کاروباری ادارے ایگزیکٹ کے کارکنوں اور ان بچوں کی خوشیاں چھین لیں گئیں تھی، اب عيد الأضحى ہے اور بے حس حکمران ، سازشی میڈیا مافیا ،اسکے ایجنٹ اور اندھا قانون کا اتحاد چاہتا ہے کے ان کارکنوں کو اس قدر گھسیٹا جائے کہ وہ ادارے کو چھوڑ جائیں،میں سلام پیش کرتا ہوں ایسے تمام ،صحافیوں ،کارکنوں کو جو اس قدر مشکل اور اعصاب شکن حالات میں بھی اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ زندہ باد ۔

اس ملک میں اگرشعیب شیخ جیسے محب الوطن کو زندان میں رکھنا،ملک کو اربوں روپے کا فائدہ پہچانے والی کمپنی کو تالا لگا دینا کس قدر بدبودار غلیظ سوچ کا انتہائی بے ہودہ کار نامہ ہے، یہ ملک کیسے چل رہا ہے؟ پی آئی اے یا دوسرے اداروں کی بربادی کا ذکر موخر رکھتے ہیں صرف اسٹیل ملز کی بربادی کو لے لیں ،"اتفاق" کا لوہا بہت اتفاق سے عوام کے منہ میں ٹھونسا جارہا ہے اور بہت ہی بے شرمی سے ہر مال برائے فروخت کی تشہیر نہیں بلکہ تذلیل دنیا بھر میں جاری ہے ، جو سیاست دان یا ارباب اختیار لوٹ مار تو نہیں کرتے مگر صلاحیت نہیں رکھتے کہ عوام کو کچھ دے سکیں وہ میرے نزدیک ہجڑے ہیں اوریہ بکاو مال تو کسی عصمت فروش رنڈی سے بھی بدترین ہے ، 

میں تمام تر حکومتی ہجڑوں اور کنجروں  کو چیلنج کرتا ہوں کہ اگر کسی مرد کی خواہش ہے پھر تو شعیب شیخ کو رہا کرو اور یہ اسٹیل ملز اس کے حوالے کرو،چند ماہ میں خسارے سے نکال دے گا،نہ تو چلو بھر پانی میں ڈوب مرو۔

شعیب شیخ کی صلاحیت ہی اس کا جرم ہے ،اسی لیے تم نے اس کو قید کیا ہے تم جانتے تھے کہ وہ پاکستان کا سب سے بڑا چینل بنا سکتا ہےجو تمہارے کالے دھندوں کا محافظ نہیں ہوگا۔ تو جناب یہ کرپشن ،لوٹ مار ،بے انصافی ،بے رحمی،وطن فروشی ، مافیا ، دہشت گردی سب معاملے آپس میں جڑے ہوئے ہیں اور یہ میڈیا کی گروہ بندی ، جانبداری ، مفاد پرستی ،غیر ملکی ایجنڈہ اسی گند کا حصہ ہے، بول کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے۔حالات خواہ کس قدر مشکل ہوں ہمیں حق و سچ کی آواز بننا ہے،باوجود حکومتی بے حد بے حسی کے جسے جانتا ہوں مطالبہ کرتا ہوں کہ صرف اس لیے کہ مطالبہ حق کی دلیل ہوکرتا ہے، میں مطالبہ کرتا ہوں کہ حکومت بول اور ایگزیکٹ کے کارکنوں کا معاشی قتل بند کرے، ہیرے جیسے آدمی شیخ شعیب اور اس کے ساتھیوں کو رہا کرے۔

صرف مطالبہ ہی نہیں احتجاج بھی کروں گا ،احتجاج جو میرا آپ کا بنیادی حق ہے جاری رہنا چاہیے۔اس اندھیرنگری کے خلاف بطورایک پاکستانی اپنے بچوں کے ساتھ عید قربان کے پہلے دن سہ پہر چار بجے بمقام لاہور پریس کلب احتجاجی بھوک ہڑتال اعلان کرتا ہوں۔
تمام تر قابل احترام بزرگوں،دوستوں کواسی طور سادہ سی اطلاع دے رہا ہوں ،ہرگز اصرار نہیں کروں گا۔ 
اگر کوئی کارکن ،کوئی صحافی،کوئی انسان شرکت کرنا چاہیں تو یہ آپ کا اپنا کاذ ہے اور اگر نہ آسکے تو 
یقین جانیے میں آپکی مجبوری کو سمجھ سکتا ہوں۔
پاکستان پائیندہ باد

Sunday, 30 August 2015


بسم اللہ الرحمن الرحیم
 امید کی کوئی آخری کرن نہیں ہوتی 
کیونکہ
امید کی ہر کرن پہلی کرن ہوتی  ہے