احتجاج۔احتجاج۔احتجاج
عید الأضحى کے دن ۔ چار بجے ۔ لاہور پریس کلب
گزشتہ عید الفطر، بول ٹی وی ، پاکستان کے بہترین کاروباری ادارے ایگزیکٹ کے کارکنوں اور ان بچوں کی خوشیاں چھین لیں گئیں تھی، اب عيد الأضحى ہے اور بے حس حکمران ، سازشی میڈیا مافیا ،اسکے ایجنٹ اور اندھا قانون کا اتحاد چاہتا ہے کے ان کارکنوں کو اس قدر گھسیٹا جائے کہ وہ ادارے کو چھوڑ جائیں،میں سلام پیش کرتا ہوں ایسے تمام ،صحافیوں ،کارکنوں کو جو اس قدر مشکل اور اعصاب شکن حالات میں بھی اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ زندہ باد ۔
اس ملک میں اگرشعیب شیخ جیسے محب الوطن کو زندان میں رکھنا،ملک کو اربوں روپے کا فائدہ پہچانے والی کمپنی کو تالا لگا دینا کس قدر بدبودار غلیظ سوچ کا انتہائی بے ہودہ کار نامہ ہے، یہ ملک کیسے چل رہا ہے؟ پی آئی اے یا دوسرے اداروں کی بربادی کا ذکر موخر رکھتے ہیں صرف اسٹیل ملز کی بربادی کو لے لیں ،"اتفاق" کا لوہا بہت اتفاق سے عوام کے منہ میں ٹھونسا جارہا ہے اور بہت ہی بے شرمی سے ہر مال برائے فروخت کی تشہیر نہیں بلکہ تذلیل دنیا بھر میں جاری ہے ، جو سیاست دان یا ارباب اختیار لوٹ مار تو نہیں کرتے مگر صلاحیت نہیں رکھتے کہ عوام کو کچھ دے سکیں وہ میرے نزدیک ہجڑے ہیں اوریہ بکاو مال تو کسی عصمت فروش رنڈی سے بھی بدترین ہے ،
میں تمام تر حکومتی ہجڑوں اور کنجروں کو چیلنج کرتا ہوں کہ اگر کسی مرد کی خواہش ہے پھر تو شعیب شیخ کو رہا کرو اور یہ اسٹیل ملز اس کے حوالے کرو،چند ماہ میں خسارے سے نکال دے گا،نہ تو چلو بھر پانی میں ڈوب مرو۔
شعیب شیخ کی صلاحیت ہی اس کا جرم ہے ،اسی لیے تم نے اس کو قید کیا ہے تم جانتے تھے کہ وہ پاکستان کا سب سے بڑا چینل بنا سکتا ہےجو تمہارے کالے دھندوں کا محافظ نہیں ہوگا۔ تو جناب یہ کرپشن ،لوٹ مار ،بے انصافی ،بے رحمی،وطن فروشی ، مافیا ، دہشت گردی سب معاملے آپس میں جڑے ہوئے ہیں اور یہ میڈیا کی گروہ بندی ، جانبداری ، مفاد پرستی ،غیر ملکی ایجنڈہ اسی گند کا حصہ ہے، بول کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے۔حالات خواہ کس قدر مشکل ہوں ہمیں حق و سچ کی آواز بننا ہے،باوجود حکومتی بے حد بے حسی کے جسے جانتا ہوں مطالبہ کرتا ہوں کہ صرف اس لیے کہ مطالبہ حق کی دلیل ہوکرتا ہے، میں مطالبہ کرتا ہوں کہ حکومت بول اور ایگزیکٹ کے کارکنوں کا معاشی قتل بند کرے، ہیرے جیسے آدمی شیخ شعیب اور اس کے ساتھیوں کو رہا کرے۔
صرف مطالبہ ہی نہیں احتجاج بھی کروں گا ،احتجاج جو میرا آپ کا بنیادی حق ہے جاری رہنا چاہیے۔اس اندھیرنگری کے خلاف بطورایک پاکستانی اپنے بچوں کے ساتھ عید قربان کے پہلے دن سہ پہر چار بجے بمقام لاہور پریس کلب احتجاجی بھوک ہڑتال اعلان کرتا ہوں۔
تمام تر قابل احترام بزرگوں،دوستوں کواسی طور سادہ سی اطلاع دے رہا ہوں ،ہرگز اصرار نہیں کروں گا۔
اگر کوئی کارکن ،کوئی صحافی،کوئی انسان شرکت کرنا چاہیں تو یہ آپ کا اپنا کاذ ہے اور اگر نہ آسکے تو یقین جانیے میں آپکی مجبوری کو سمجھ سکتا ہوں۔
پاکستان پائیندہ باداگر کوئی کارکن ،کوئی صحافی،کوئی انسان شرکت کرنا چاہیں تو یہ آپ کا اپنا کاذ ہے اور اگر نہ آسکے تو یقین جانیے میں آپکی مجبوری کو سمجھ سکتا ہوں۔






No comments:
Post a Comment