Wednesday, 18 May 2022

منحرف ارکان کے فیصلے پر عمران خان کا شکریہ


 منحرف ارکان اسمبلی کے متعلق سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ
عمران_خان کا عدالت کو شکریہ؟؟#
قاسم سوری کے فیصلے کا کیا بنا؟
#AliMasoodSyed تحریر 

وزیراعظم پاکستان عمران خان نے اتارے جانے سے پہلے جو امریکی دھمکی کا خط   جلسہ عام میں دیکھایا اور واضح پر بتایا کہ 
ان کے ساتھ اصل میں کیا ہورہا ہے جو کہ تمام اخبارات اور ٹی وی چینلوں میں نشر ہوا جس پر فوری طور پر اسلام آباد عدالت سے رازداری ایکٹ کے تحت افشاں نہ کرنے کا حکم صادر بھی ہوا لیکن اس کے نتیجے میں ایک بڑے اور سنگین نتائج کے معاملات کو از خود نوٹس کے قابل نہ سمجھا گیا ایسی صورت میں جب کہ ابھی عمران خان چیف ایگزیکٹو کی کرسی پر موجود تھے اور اپنی حکومت کے خلاف امریکی مداخلت  کے بارے میں چیخ چیخ کر بتارہے تھے تو اس دوران  اس سلسلے کا سب سے بڑا فورم نیشنل سکیورٹی کونسل اس کو امریکی مداخلت کہہ رہا ہے تو کیا یہ معاملہ پھر بھی محض سیاسی رہا جاتا تھا؟ یہی نہیں جب ارکان اسمبلی کی منڈی لگی رہی اور رجیم تبدیل کی جا رہی تھی اور۔۔۔ اور۔۔۔ اور صرف یہ بھی نہیں جب ڈپٹی اسپیکر نیشنل اسمبلی قاسم سوری نے مداخلت کے خلاف فیصلہ دیا اور سپریم کورٹ کو خط بھیجنے کی بات کی تو تب بھی از خود نوٹس نہیں لیا ،جبکہ قاسم سوری کے فیصلے کے نتیجے میں وزیراعظم عمران خان نے اسمبلی توڑ دی تو اس کے اوپر نوٹس لے لیا گیا اور اسپیکر، وزیراعظم اور صدر کے اختیارات کو ایک طرح سے سلب کرتے ہوئے ،اس روز کی تاریخ میں عدم اعتماد کی کارروائی کو مکمل کرنے کا حکم صادر ہوا ، اس سب معاملات جن کا تعلق ملک میں رجیم کی تبدیلی، غیر ملکی مداخلت اور اسکے نتیجے ایک بڑے سیاسی و معاشی بحران کی صورت اختیار کرنے والا تھا کس طرح یہ چناؤ کیا گیا کہ کون سے نوٹس لینے ہیں اور کون سے نہیں اس کا کیا معیار تھا،عوام اختیار جانتے ہیں صرف چناؤ کا معیار جاننا چاہتے ہیں 
اس کا تجزیہ انصاف تقاضوں ، انصاف کییا پھر ملک بھر میں مجموعی صورتحال اور اس وقت کے غیر معمولی حالات کیا تھے، جیسے عوامل پر غور کرنے سے نکالا جاسکتا ہے۔ 
منحرف ارکان اسمبلی کے بارے میں 
سپریم کورٹ کے فیصلے پر میری رائے یہ ہے کہ پہلی بات، یہ فیصلہ بہت تاخیر سے آیا اس پر شروع میں ہی از خود نوٹس لیا جانا چاہیے تھا اگر ایسا ہوتا تو آج ملک کے حالات مختلف ہوتے ، اور اس سے بڑھ کر سب معاملات کی ماں معاملہ امریکی مداخلت ہے اس معاملے کے سامنے آتے ہی ایک آزاد ملک کی عدلیہ کو یہ معاملہ فوری طور اٹھانا چاہیے تھا ورنہ آزادی اور غلامی کا سوال اپنی جگہ کھڑا ہے ، جس ملک میں غیرملکی اقا،حکومت بدلنے اور تبدیل کروانے کا اختیار رکھتے ہوں وہاں آئین و قانون کی بالادستی کہاں کھڑی رہ جاتی ہے ، اس لیے نمبر ون مقدمہ تو امریکی مداخلت کا تھا، عمران خان حقیقی آزادی کی تحریک لے کر اٹھے ہیں ،کوہاٹ جلسے میں منحرف ارکان پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر "شکریہ" کو تمام اور مکمل انصاف سے مشروط کرنا چاہیے تھا، تحریک آزادی دوم یعنی حقیقی آزادی کا ایک اہم مطالبہ مکمل انصاف ہے اس شکریہ سے آزادی کی جدوجہد کرنے والوں  کے ذہنوں میں ایک الجھن ضرور پیدا ہوگی، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس فیصلے اور اس جیسے چند فیصلوں سے یا وقت گزرنے کے بعد دیئے گئے فیصلوں پر شکریہ کہنے سے  مجموعی طور  بے انصافی کے خلاف تحریک پر کوئی فرق تو نہیں پڑے گا؟ 
آخر میں ایک تصویر جو میں نے اس مضمون کے ساتھ شئیر کی، اس بارے میں بتانا چاہتا ہوں کہ یہ تصویر ضلع رحیم یار خان، تحصیل صادق آباد کے موضع رانجھے خاں کے دو بھائیوں غلام قادر اور غلام سرور کی ہے جنہیں 13 اکتوبر 2015 میں بہاولپور جیل میں پھانسی دے دی گئی تھی جبکہ سابق چیف جسٹس آصف کھوسہ نے 5 اکتوبر 2016 میں از خود نوٹس لیا اور 6 اکتوبر 2016 میں ان غریبوں کو بے گناہ قرار دے دیا جبکہ ان کو سپرد خاک کیے ہوئے تقریباً ایک سال کا عرصہ گزر چکا تھا

‏‎#حقیقی_آزادی ‎#امپورٹڈ_حکومت_نامنظور ‎#غلامی_نامنظور  ‎#حل_صرف_انقلاب 
‎#MarchAgainstImportedGovt ‎#Pakistan ‎#ImranKhan ‎#pti
 

No comments:

Post a Comment