Saturday, 18 January 2020

یوٹرن امید کا دروازہ بھی ہے


عمران خان نے ملک کی سب سے بڑی و
کرپٹ
مافیا کو چیلنج کیا، جسکے نتیجے میں انہیں بڑی سخت مخالفت اور سازشوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، صاف ظاہر ہے کہ یہ مافیا طاقت ور ہے اور دوسری طرف ان کو یہ صلاحیت حاصل بھی ہے کہ جن اکائیوں کے مجموعہ کو ریاست کہتے ہیں ہیں ان کو متفقہ طور پر اپنے خلاف کام نہ کرنے دیں ‫ عمران خان چاہتے تھے کہ بڑے مجرموں کو سزا ملے مگر اس معاملے میں ریاست  ایک متحدہ قوت نہ بن سکی، کھینچا تانی کا یہ عالم رہا کہ غیر اعتمادی کا درجہ آخری حد پر پہنچ گیا
برہنگی کا یہ دور شاید اپنی کوئی مثال نہیں رکھتا، ہر معتبر انتہائی غیر سنجیدہ  اور ذاتیات کے چھوٹے پن سمت مکمل طور پر دیکھ لیا گیا
اس سوچ کو تقویت ملتی ہے پاکستان میں ایسا ہوتا رہا ہے، ایسا ہورہا ہے اور ایسا ہی ہوتا رہے، باقی سب زبانی جمع خرچ ہے اور عمران کے حوالے سے جو تحریک اٹھی تھی یہ بھی ماضی کی طرح ایک فریب کا تسلسل ہے، اس زیادہ کچھ نہیں
مزید یہ کہ ماضی کی طرح جو کہا جارہا ہے بلکل اہم نہیں اور ماضی کی طرح جو رہا ہے وہی حقیقت ہے
اس میں دلچسپ بات ہے کہ سوکالڈ معیشت ٹھیک کرنے کا ایجنڈا بھی ماضی سے چندا مختلف نہیں
اور اگر میں اپنے لہجے میں پوچھوں تو یہ یہی کہوں گا کہ او بھائی بیوقوف کس کو بناتے ہو جب ہر چیز ماضی جیسی ہے تو نتائج بھی ماضی جیسی ہوگی ،ماضی میں معیشت ٹھیک نہیں ہوسکی اب بھی اس راستے سے نہیں ہوگی
ماضی میں  مرکزی حکمران یعنی قیادت خود کرپشن کررہے تھے تو اب ساتھ شامل عناصر اس سازگار ماحول میں کریں گے ،بلیک میلر فائدہ اٹھا رہے ہیں، یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے ہے کہ کرپشن کے بڑے مجرم جو جال میں پھنسے تھے  اس صورت حال کا کسی نے ذاتی فائدہ تو اٹھایا ہوگیا، کہیں کوئی بھاری رقم چند شخصیت کی طرف تو نہیں چلیں گئیں، آخر اتنا سادہ معاملہ تو نہیں تھا اور جس لیول کی بے انصافی اور قانون ونظام کو مذاق بنایا گیا اس کی قیمت کیا ہوگی؟  اور سوال بھی ہے کیا عدالیہ کی کالی بھیڑیں مرکزی کردار کی حثیت بناسکتیں تھی
اسی طرح دیگر سوالات بھی جنم لیتے ہیں اور بہت کمزوریوں کی نشان دہی بھی ہوتی ہے
اب باقی لے دے کر یہ بچا ہے کہ کپتان خود کرپٹ نہیں اور مخلص ہے جس کے جواب میں بہت تند وتیز نشتروں سے یہ وار کیا جاتا ہے کہ ہم نے اس کی ایمانداری کا اچار ڈالنا ہے جبکہ بد سے بدترین ہوئے جارہے ہیں، ،عمران کے نظریاتی کارکن کرپٹ عناصر کو مثال عبرت ناک نہ بنانے پر ناراض ہیں، جبکہ بظاہر ساتھ شامل حکمران طبقہ نجی محفلوں میں عمران کی ایمانداری کا مذاق اڑاتے ہیں
اب عمران خان اس کام کو سیکھنے میں لگا ہوا ہے جس کو تبدیل کرنا ہے اور سچ پوچھیں تو اس نظام کو ہی چلانا ہے تو اس کے بہت چالو قسم کے عمران سے زیادہ قابل افراد موجود ہیں
عمران وہ کرے جس کے لیے پیدا ہوا ہے
اب اس کے لئے اور کوئی راستہ نہیں کہ وہ اپنے حقیقی موقف کی طرف یوٹرن واپس لے ورنہ نہ نظام، نہ معیشت ٹھیک ہوگی نہ انصاف ملے گا بس ماضی کی طرح قبریں بھاری ہوتیں رہیں گی


No comments:

Post a Comment