Wednesday, 22 April 2020

کرپٹ عناصر پر گیٹ نمبر 4 بند ہونا چاہیے

نواز رہائی بدترین حکمت عملی تھی ،یکجہتی کا مظاہرہ مظلوم عوام سے کریں ،ظالم اشرافیہ سے نہیں،عوام کو سات دہائیوں سے ناکردہ گناہ کی سزا دینے والے کرپٹ عناصر کو سزا دیں ،پہلے لوگ ملک کی حفاظت کرنے والوں کو کرپٹ و غدار عناصر کے خلاف آخری رکاوٹ سمجھتے تھے ،اب یہ اضطراب بڑھنے لگا ہے کہ کرپشن کے خلاف علامت عمران خان جو کرنا چاہتا ہے وہ نہیں کرپارہا کسی روایتی تھانیدار کی ڈھیلی پتلون قسم کی سوچ حاوی نظر آتی ہے ،اسمبلیوں میں اکثریت ظالم اشرافیہ سے جان چھڑوانے کی بجائے معذوری کو برقرار رکھا گیا،چل چلاو کو روا سمجھا گیا اور کرپشن کو بڑا مسئلہ نہیں سمجھا گیا، بے بسی کی پروا نہیں کی گئی جو طاقت ور پکڑا گیا اس سے مک مکا کا آپشن باقی رکھا گیا،یہ سب عمران نہیں کررہا ،اپنے مخالف عمران کو جانتے ہیں،جب زیادہ دباو پڑا تو عمران نے بات اپنے اوپر لے لی تب بھی لوگ جانتے تھے نواز کو نکالنے کا فیصلہ عمران کا نہیں،اب اگر کوئی کرپٹ باہر ہوتا ہے تو کسی کو شک نہیں ہوگا یہ کس طرح ہورہا ہے اور کون طاقت کا سرچشمہ ہے ، ذاتی مفادات کی سیاست ختم ہونی چاہیے ، نیز ثابت ہونا چاہیے کہ مدت ملازمت میں توسیع سے ملک و قوم کو کیا فائدہ ہوا؟
ماضی کی طرح بڑے بڑے کرپشن کیس بس کچھ سطحی سی شرائط تک محوود ہیں،ہم دیکھ چکے ہیں کہ مشرف کے این آر او کے بدترین نتائج نکلے،آپ دس سال ملک نہیں آئیں گے جیسی تمام سطحی جگاڑوں کا کیا نتیجہ نکا؟ 



آپ کے پچھلوں نے جس مرحلے کے لیے اتنا زور لگایا تھااس موقع کو برباد کیا جارہا ہے
وہ ناداں گر گئے سجدے میں جب وقت قیام آیا
اب جب وقت آیا تھا،آپ نے ہاتھ باندھ لیے، کچھ دباو نیچے والوں کا بھی ہوتا ہے ، کیوں یہ موقع برباد کیا جارہا ہے اور اگر مریم یا کوئی بھی ریکارڈیڈ مواد سے کسی کو بلیک میل کررہا ہے تو بھی اس کی قیمت ملک و قوم نہیں.اب تک اسمبلیوں میں صفائی کا عمل نہ شروع ہونا،عمران کے خلاف بلیک میلنگ کی صورت کو تحفظ حاصل ہونااور ضروری قوانین جو درکار ہیں انکا ہاتھ سے بہت دور ہونا، بہت سے سوالات کو جنم دے رہا ہے؟ یہ سوال پوری شدومد سے پرورش پارہے ہیں ،اس دور میں رکاوٹوں کی جو تصویر بن کرسامنے آرہی ہے وہ بھی بڑی عجیب سی ہے،برائے نام ملکی مفاد مگر سطحی شرائط ایک ناقابل تلافی غلطی ہوگی،شرائط منوانے کے لیے نہیں حقیقی طور پر مجرموں کو مثال عبرت بنانے کے لیے کردار ادا کرنے کا وقت ہے، آئی ایم ایف کی عینک اتار سمجھنا ہوگا،کرونا کے موجودہ اور بعد کے حالات کا تجزیہ ہمیں راستہ دیکھارہا ہے ،اس وقت مجرموں سے جان چھڑوانے کا درست موقع بھی اللہ نے دے رکھا ہے۔ جبکہ بہت سے ممالک جب صفر سے معیشت شروع کررہے ہوں گے تو آپ نیا اور بہتر راستہ منتخب کریں۔اس وقت یااس سے زیادہ ،مشکل حالات ہوں نبٹنے کے لیے فوجی حکومت کی بلکل ضرورت نہیں بلکہ عمران کی حکومت کو آپ کی طاقت کی ضرورت ہے،زبانی نہیں عملی طور پر نظرآنا چاہیے،کرپشن مافیا اور نظام عدل کے بیچ و بیچ کوئی کردار نہیں ہوتا جس طرح شیطان اور رحمان کے درمیان کوئی کام کرنے کی گنجائش نہیں

No comments:

Post a Comment