Wednesday, 29 April 2020

نئی ذمہ داری





 
شبلی فراز صاحب اور جنرل (ر) عاصم باجوہ کو نئی ذمہ داری پر خوش آمدید
لیکن                                       
اگر #ظالم_اشرافیہ اور #کرپشن_مافیا کے خلاف کھل کر #بیانیہ نہ دیا،کرپٹ قومی مجرموں کے بارے اظہار نفرت نہ کیا،اگر ظالم اشرافیہ کے گٹھ جوڑ کو #ملی_یکجہتی قرار دیا،اگر ناپاک اتحاد اور ملکی دباو میں کنکشن کاٹنے کو ترجیع میں نہ رکھا ،اگر #میڈیا فرعون کو مثال عبرت نہیں بنایا،ملک و قوم کے خلاف مستقل مورچہ اسکا ادارہ بند نہ کیا اور قومی ایجنڈے کو ناقابل عمل ایجنڈہ سمجھا
تو پھر ناخوش آمدید
تو پھر آپکی طاقت ہماری طاقت نہِں ہمارے دشمن کی طاقت ہے۔تب آپکی آمد اکثریت مظلوم طبقے پر ایک اور بوجھ کے سوا کچھ بھی نہیں، لاکھوں ستم میں ایک اور ستم کے سوا کچھ بھی نہیں،ہمیشہ یاد رکھا جانا چاہیے نواز رہائی بدترین حکمت عملی تھی۔آئندہ ایسی حکمت عملی کی توقع نہیں رکھتے
(جنرل عاصم اگراپنے فوجی بیک گراونڈ کی وجہ سے #سول_ملٹری_لڑائی کے تاثر سے بچنے کے لیے محتاط رہے تو پھر بڑی دقت ہوگی، #عمران کا کرپٹ اور ظالم اشرافیہ مخالف بیانیہ آنا چاہیے باقی #فوج کے موقف کے لیے #ISPR پوری طرح موجود ہے )
#حکومت برائے حکومت نہیں ، عہدہ برائے مرتبہ نہیں ، ظاقت برائے عیاشی نہیں ،اخیتار برائے ذاتی مفاد نہِں ،
#دو_نہیں_ایک_پاکستان کی توقع رکھتے ہیں اور یہی اچھی توقعات ہیں
#Pakistan
#Government
#Ministry Of #Information
#Media

No comments:

Post a Comment