Saturday, 9 May 2020

لشکر متاثرین کیوں نہیں؟


اس دور کے ننگ مسلمان فرقہ وارنہ اختلاف کے شعلے تو بھڑکاتے ہیں،ایک دوسرے کو مارنے کے لیے مسلحہ گروپ بناتے ہیں ،ان کے لشکر و سپاہ دوسرے فرقے کے افراد کو بلاامتیاز رنگ و نسل بلحاط امیر غریب مارتے ہیں
مگر(سوائے زبانی جمع خرچ کے) کسی کی غیرت کو طبقاتی تقسیم نے نہیں چھیڑا،جب ظالم اشرافیہ اکثریت طبقے کا خون چوس رہے ہوتے ہیں تو نے ان کی غیرت بھنگ پی لیتی ہے،کرپٹ و خون چوس اشرافیہ کے خلاف حیرت انگیز طور کوئی لشکر متاثرین ،کوئی سپاہ غریب نہیں بنتی، ڈبل کیبن جیپوں کے دستوں کے ساتھ کوئی دینی غیرت کا غمخوار ملا ادھر سے ادھر اشرافیہ کے خلاف بھاگا نہیں پھرتا۔اس عظیم تر مقصد کی ترویج و تبلیغ کے لیے کوششاں کارکنوں کے وظیفوں کےلیے کوئی خرقہ پوش  ہلکان نہیں ہورہا،عظیم تر تحریکوں کا منبا و مسدر ریاستیوں کی فنڈنگ میں عوامی انتقام کا حصہ نہیں البتہ اشرافیہ اور بااثر افراد سے تعلقات بڑھنے کی مد موجود ہے،اس بنیاد پر لڑائی ہے ہی نہیں ،اگر آج ظالم و مظلوم کی لڑائی آپکا ایجنڈہ نہیں تب ماضی کے بڑے بڑے ناموں سے کچھ فرق نہیں پڑتا،اگر کرپٹ اشرافیہ سے جنگ نہیں تو کوئی سبائی ہے یاایوبی ،کوئی حسینی ہے یا یزیدی اصل میں ان کا دادا ایک ہی ہے اور وہ ہے سرمایہ۔
 وہ سرمایہ خواہ کس طرح حاصل ہی کیا گیا ہو ،کار خیر کے لیے میسر ہونا چاہیے،

غریب چاروں طرف سے بے وارث ہے ،مذہب کا ٹھیکے دار اور غیرت کا پلے دار بھی ان کے ساتھ نہیں ہے، پسا ہوا طبقہ ماضی سے زیادہ آج کے کردار کو دیکھے تو ہر کسی کی اصلیت کو جان سکتا ہے۔ بقول علامہ اقبال ہم تو اتنا ہی یاد کروسکتے  ہیں کہ  
اے گرفتارِ ابُوبکرؓ و علیؓ ہُشیار باش

No comments:

Post a Comment