میرا رنگ بھی لال ہے ،لہو رنگ گہرا لال۔
کچھ لوگوں کو گمان گزرااور کچھ نے مجھے پوچھا بھی کہ آپ سوشلسٹ ہیں نہیں ہرگز نہیں ،مساوات محمدی ص میرا راستہ ہے ،خواہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والا ہو ،تاریخ سے تھوڑا سا آشنا ہوگا تو ظلم کے خلاف سب سے بڑی علامت سیدنا امام حسین ع کو ہی سمجھے گا،وہی میرے لیے مینار نور ہیں لاالہ الا اللہ آپ کو زمینی خداوں سے انکار سیکھاتا ہے ،مزدوروں، یتیموں ، مسکینوں غریبوں اور سفید پوشوں کی حمایت پر آمادہ کرتا ہے
میں کیمونسٹ نہیں اور اللہ پر کامل ایمان رکھتا ہوں مگر میں قومی بگاڑ کا حل اس کے سوا کچھ اور نہیں سمجھتا کہ گھر کو مکمل طور پر صاف کرنا ہوگا،موجود ظالم اشرافیہ کی تمام دولت اور اثاثوں کو ایک بار ریاست کے قبضے میں لا کر نئی معیشت کی بنیاد رکھنی پڑے گی اور نئے قوانین کی مدد سے اس نئی معیشت کو مستقل تحفظ دینا ہوگا، ایک مفتی صاحب نے کہا توبہ توبہ یہ بڑا گناہ ہے میں نے عرض کی کہ مٹھی بھر اشرافیہ سے دولت چھیننے کے گناہ کو کروڑوں انسانوں کے استحصال سے مائنس کروادوں گا،باقی یہ بات کہ ملیں اور فیکٹریاں، بند ہو جائیں گی، نہیں بند ہوں گی اگر کہیں ماضی میں ناکام تجربہ ہوا تو وجہ ناقص پلان تھا اس آگے میرا سوال یہ ہے کہ دہائیوں سے جس ظلم کے راستے پر آپ ہیں ،اس سے کس بہتری کے امکان نے جنم لیا؟
انسانوں کو جہنم سے نکالنے کے لیے اگر تمہاری راہ میں اشرافیہ کے خلاف خوف خدا اور ایمان حائل ہے تو پھر یہ گناہ مجھ پر ڈال دو، یہی نہیں ظالم اشرافیہ اور کرپٹ مافیا کو ان گھناونے جرائم کی پاداش میں سرعام سزائے موت سنائی جائے ،یہ گناہ بھی میرے اوپر ڈال دینا،میں سمجھتا ہوں کہ میرے غریب اور مزدور کے حالات انصاف پر مبنی معیشت کے بغیر نہِں بدلیں گے جس کی راہ میں حائل دست قاتل کاٹنا ہوگا
میں سوشلسٹ نہیں مگر اپنی تحریروں میں جالب کے اشعار ضرور لکھوں گا ، جو اسلام سے متصادم نہیں ،ہاں مگر موجودہ نظامِ ظلم، اسلام سے اور اللہ و رسول کے حکم سے متصادم ضرور ہے اور اسکی مخلوق کا قاتل ہے ۔میں ان تمام گنہگاروں کے لیے ایک عجیب سی قربت کا احساس رکھتا ہوں جن کی جدوجہد پسے ہوئے طبقے کے لیے تھی
آخر میں حبیب جالب کے قابل عمل اشعار شامل کررہا ہوں، جس کی راہ میں صرف ایک پردہ حائل ہے




No comments:
Post a Comment